صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 351
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۵۱ ٢٥ - كتاب الحج فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سواری پر بیٹھا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بائیں وَسَلَّمَ الشَّعْبَ الْأَيْسَرَ الَّذِي دُوْنَ گھائی پر پہنچے جو کہ مزدلفہ سے ورے ہے تو آپ نے الْمُزْدَلِفَةِ أَنَاخَ فَبَالَ ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ اپنا اونٹ بٹھایا اور پیشاب کیا۔ پھر آپ آئے تو میں عَلَيْهِ الْوَضُوْءَ فَتَوَضَّأَ وُضُوْءًا خَفِيفًا نے آپ پر وضو کا پانی ڈالا ۔ آپ نے ہلکا سا وضو کیا۔ فَقُلْتُ الصَّلَاةُ يَا رَسُوْلَ اللهِ قَالَ میں نے کہا: یا رسول اللہ ! نماز ہوگی؟ فرمایا: نماز آگے الصَّلَاةُ أَمَامَكَ فَرَكِبَ رَسُوْلُ اللهِ چل کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے؛ یہاں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى تک که مزدلفہ پہنچے اور وہاں نماز پڑھی۔ پھر مزدلفہ کی الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ صبح (دسویں ذوالحجہ ) حضرت فضل ( بن عباس) آپ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ غَدَاةَ جَمْعِ کے پیچھے سواری پر بیٹھے ۔ اطرافه ،۱۳۹ ، ۱۸۱ ، ١٦٦٧، ١٦٧٢۔ ١٦٧٠ : قَالَ كُرَيْبٌ فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ ۱۶۷۰: کریب نے کہا: حضرت عبداللہ بن عباس اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ رضی اللہ عنہما نے حضرت فضل سے روایت کرتے الْفَضْلِ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہوئے مجھے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برابر وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ۔ لبیک کہتے رہے۔ یہاں تک کہ آپ جمرہ پر پہنچے۔ اطرافه: ١٥٤٤ ، 1685، 1687۔ شرح صلی الہ علیہ سلم کا مزدلفہ کے قریب ایک گھائی میں اترنے کا ذکر کرتے ہیں۔ خاندان بنوامیہ کے امراء : النُّزُولُ بَيْنَ عَرَفَةَ وَجَمْع: روایت نمبر ۱۹۶۷ کے لفظ " مَالَ إِلَى الشَّعْبِ رسول اللہ جو اس وادی میں مغرب کی نماز کے لئے جاتے تھے ، حضرت ابن عمر نے اس امر میں ان سے اتفاق نہیں کیا۔ نیز ابن ابی نجیح سے مروی ہے: سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ اتَّخَذَهُ رَسُولُ اللهِ عَل مَبَالًا وَاتَّخَذْتُمُوهُ مُصَلَّى وَكَأَنَّهُ أَنْكَرَ بذلك۔ یعنی میں نے عکرمہ کو کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وادی میں بول و براز کی جگہ بنائی تھی اور تم نے اسے نماز گاہ بنالیا۔ گویا کہ انہوں نے اسے برا سمجھا ہے۔ کیونکہ مسنون طریق یہی ہے کہ مزدلفہ میں نمازیں جمع کی جاتی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ضرورت کے لئے وہاں ٹھہرے تھے ؛ نہ اس لئے کہ اس کا تعلق مناسک حج سے بھی تھا۔ فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۶۵۶، ۶۵۷)