صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 350
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۵۰ ٢٥-كتاب الحج عَبَّاسٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ ـةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللهُ آزاد کردہ غلام کریب سے، کریب نے حضرت اسامہ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم حَيْثُ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ مَالَ إِلَى جب عرفات سے لوٹے تو آپ ایک گھائی کے نشیب الشَّعْبِ فَقَضَى حَاجَتَهُ فَتَوَضَّأَ فَقُلْتُ میں مڑے اور وہاں آپ حاجت سے فارغ ہوئے يَا رَسُوْلَ اللهِ أَتُصَلِّي فَقَالَ الصَّلَاةُ اور وضو کیا تو میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ نماز أَمَامَكَ۔پڑھیں گے؟ تو آپ نے فرمایا: نماز آگے چل کر۔اطرافه ،۱۳۹ ، ۱۸۱ ، ١٦٦۹، ١٦٧٢- ١٦٦٨: حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ :۱۶۶۸ موسی بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا۔إِسْمَاعِيْلَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ نَّافِعٍ قَالَ جویریہ نے ہمیں بتایا کہ نافع سے مروی ہے۔انہوں كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ الله نے کہا : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مزدلفہ میں عَنْهُمَا يَجْمَعُ بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ آکر مغرب وعشاء جمع کیا کرتے تھے۔لیکن وہ اس بِجَمْعِ غَيْرَ أَنَّهُ يَمُرُّ بِالشَّعْبِ الَّذِي گھائی سے گذرتے جس گھائی کی سمت رسول اللہ أَخَذَهُ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلى اللہ علیہ وسلم نے بھی اختیار کی۔حضرت عبداللہ وَسَلَّمَ فَيَدْخُلُ فَيَنْتَفِضُ وَيَتَوَضَّأُ وَلَا وہاں جاتے اور حاجت سے فارغ ہوتے اور وضو يُصَلِّي حَتَّى يُصَلِّيَ بِجَمْعِ۔کرتے اور نماز وہاں نہ پڑھتے مزدلفہ میں آکر پڑھتے۔اطرافه: ۱۰۹۱، ۱۰۹۲، ۱۱۰۶، ۱۱۰۹، ۱۶۷۳، ۱۸۰۵، ۳۰۰۰۔١٦٦٩: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا :۱۶۶۹ قتیبہ نے ہم سے بیان کیا۔اسماعیل بن إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ جعفر نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد بن ابی حرملہ سے، أَبِي حَرْمَلَةَ عَنْ كُرَيْبِ مَوْلَى ابْنِ انہوں نے حضرت ابن عباس کے آزاد کردہ غلام عَبَّاسِ عَنْ أَسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ ا کریب سے، کریب نے حضرت اسامہ بن زید عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ رَدِفَتُ رَسُوْلَ اللهِ رضی اللہ عنہما سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ عرفات سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے