صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 349
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۴۹ ٢٥ - كتاب الحج تشريح : السَّيْرُ إِذَا دَفَعَ مِنْ عَرَفَة: صحیح سلم کی روایت یوں ہے: عَنِ ابْنِ عَباس ۔۔۔ قَالَ أَسَامَةُ فَمَا زَالَ يَسِيرُ عَلَى هَيْئَتِهِ حَتَّى أَتَى جَمْعًا۔ (مسلم، كتاب الحج، باب الإفاضة من عرفات) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سکینت و وقار سے سفر کرتے رہے ، حتی کہ مقام جمع یعنی مزدلفہ میں آئے اور وہاں مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کیں۔ مذکورہ بالا روایت میں حضرت ابن عباس سے بروایت حضرت اسامہ یہ بھی مروی ہے کہ عرفات سے واپسی پر آپ نے فرمایا: أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمُ بِالسَّكِينَةِ فَإِنَّ الْبِرَّ لَيْسَ بِإِيجَافِ الْخَيْلِ وَالْإِبِلِ قَالَ فَمَا رَأَيْتُهَا رَافِعَةً يَدَيْهَا عَادِيَةً حَتَّى أَتَى جَمْعًا ۔ (ابوداؤد، کتاب المناسک، باب الدفعة من عرفة) اے لوگو! آرام سے چلو۔ نیکی سواری دوڑانے میں نہیں۔ میں نے نہیں دیکھا کہ آپ کی اونٹنی دوڑنے کے لیے اگلے پاؤں اُٹھاتی ہو۔ یہاں تک کہ آپ مزدلفہ پہنچ گئے ۔ ترمذی نے اس بارہ میں جو حدیث حضرت جابر بن عبد اللہ سے نقل کی ہے؛ اس میں یہ الفاظ ہیں : أَوْضَعَ فِي وَادِي مُحَسِرٍ ۔ (ترمذی، کتاب الحج، باب ماجاء في الإفاضة من عرفات) یعنی وادی محسر میں اونٹ تیز چلاتے۔ مَنَاصٌ لَيْسَ حِيْنَ فِرَارٍ : امام بخاری نے سفر کی دونوں صورتیں جمع کر دی ہیں۔ یعنی جب ازدحام نہ ہو تو تیز قدم چلائے اور اسی غرض سے لغوی معنی ضمنا بیان کر کے اشارہ کیا ہے کہ موقع محل کا خیال نہ رکھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص لفظ مناص کے اشتقاق میں مشترکہ حروف کی بناء پر اسے لفظ نص سے مشتق سمجھے۔ حالانکہ مَنَاص کا لفظ ناص يَنُوصُ سے ہے نہ کہ نَصَّ ہے۔ (فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۵ ۶۵) امام موصوف کی یہ تشریح نہ بلا وجہ ہے نہ غلط نہی ۔ جیسا کہ علامہ عینی کو خیال پیدا ہوا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء اصفحہ ۷ ) قَالَ هِشَامٌ وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ : ہشام کی جس روایت کا اس بارہ میں حوالہ دیا گیا ہے وہ مسلم اور نسائی ☆ نے بھی نقل کی ہے اور امام بخاری نے بھی کتاب الجہاد میں اسے نقل کیا ہے۔ میر بَاب ۳ ۹ : النُّزُوْلُ بَيْنَ عَرَفَةَ وَجَمْعِ عرفات اور مزدلفہ کے درمیان اُترنا ١٦٦٧: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۱۶۶۷ مسدد نے ہم سے بیان کیا۔ حماد بن زید حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے یحی بن سعید سے بچی نے مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبِ مَوْلَى ابْنِ موسى بن عقبہ سے، انہوں نے حضرت ابن عباس کے (بخاری، کتاب الجهاد والسير، باب السرعة في السير، روایت نمبر ۲۹۹۹) (مسلم، کتاب الحج، باب الإفاضة من عرفات الى المزدلفة) (نسائی، کتاب مناسك الحج، باب كيف السير من عرفة)