صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 348
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۴۸ ٢٥ - كتاب الحج درود شریف کثرت سے پڑھنا اس عبادت وقوف میں شامل ہے۔حاجی یہاں سے مغرب کے بعد کوچ کر کے مزدلفہ تک جاتے ہیں جو حرم کے اندر ہے۔جہاں سے عرفات تین میل ہے اور رات مزدلفہ ہی میں قیام کیا جاتا ہے۔کچھ آرام کرنے کے بعد دعا ذکر الہی اور عبادت ہوتی ہے۔مغرب و عشاء کی نمازیں مزدلفہ میں جمع کی جاتی ہیں۔صبح کی نماز پڑھ کر مشعر حرام کی طرف کوچ ہوتا ہے جو ایک پہاڑی کا نام ہے۔اس کا ذکر قرآنِ مجید کی آیت فَإِذَا أَفَضْتُمُ مِنْ عَرَفَاتٍ فَاذْكُرُوا اللهَ عِندَ الْمَشْعَرِ الْحَرَامِ (البقرة :۱۹۹) میں ہے۔عرب بھی قدیم سے ان جگہوں میں اپنے طریق پر عبادت کیا کرتے تھے۔جس سے یہ ظاہر ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی نے ان جگہوں کو عبادت سے برکت دی ہے۔مرور زمانہ کے ساتھ عربوں نے توحید الہی کو شرک سے ملوث کر دیا۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ملت ابراہیمی بحال فرمائی۔بَابِ ۹۲: السَّيْرُ إِذَا دَفَعَ مِنْ عَرَفَةَ عرفات سے جب لوٹے تو کیسے چلے ١٦٦٦ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ :۱۶۶۶ عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ هِشَامِ بْن مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے ہشام بن عروہ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّهُ قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ سے، ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی۔انہوں وَأَنَا جَالِسٌ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللهِ نے کہا: حضرت اسامہ سے پوچھا گیا اور میں بیٹھا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں کس صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيْرُ فِي حَجَّةِ رفتار سے چلتے تھے، جب آپ عرفات سے لوٹے ؟ الْوَدَاعِ حِيْنَ دَفَعَ قَالَ كَانَ يَسِيْرُ تو انہوں نے کہا کہ آپ تیز قدم چلتے تھے اور جب الْعَتَقَ فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ قَالَ آپ کھلی جگہ پاتے تو تیز قدم سے بھی زیادہ۔ہشام هِشَامٌ وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ۔قَالَ أَبُو نے کہا: نَص تیز قدم سے زیادہ رفتار چلنے کو کہتے عَبْدِ اللَّهِ فَجْوَةٌ مُتَسَعٌ وَالْجَمِيعُ ہیں۔ابوعبدالله (بخاری) نے کہا: اور فَجْوَةٌ کے معنی فَجَوَاتٌ وَفِجَاءً وَكَذَلِكَ رَكْوَةٌ ہیں کشادہ جگہ اور اس کی جمع فَجَوَات اور فِجَاءَ ہے وَرِكَاءٌ، مَنَاصٌ (ص:(٤) لَيْسَ حِيْنَ اور اسی طرح زکوة کی جمع رِكَاء ہے۔سورۃ ص میں جو مَنَاص کا لفظ ہے اس کے معنی ہیں بھاگنے کا وقت نہیں ہے۔فِرَارٍ اطرافه: ٢٩٩٩، ٤٤١٣۔