صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 347 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 347

صحيح البخاری جلد ۳ ۳۷ ٢٥- كتاب الحج ط یعنی نہایت جو شیلے بمعنی متعصب اور اپنے لئے اس امر کو بطور امتیاز خاص گردانتے۔اللہ تعالیٰ نے اسے اسلامی مساوات کی روح کے خلاف پا کر ارشاد فرمایا: ثُمَّ أَفِيْضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وَاسْتَغْفِرُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (البقرة : ۲۰۰) یعنی تم وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹیں اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرو اور یقینا وہ غفور و رحیم ہے۔اس ارشاد باری تعالیٰ سے ظاہر ہے کہ عبادت حج کی علت غائی تزکیہ نفس ہے۔حضرت جبیر فتح مکہ میں مسلمان ہوئے تھے اور جس حج کا مذکورہ بالا روایت میں ذکر ہے؛ وہ ماھ میں ہوا۔جو حجتہ الوداع کے نام سے مشہور ہے۔زمانہ جاہلیت میں ان جمس نے کچھ بدعتیں جاری کر رکھی تھیں۔مثلاً ان کی عورتوں کو بحالت احرام حج کے ایام میں کا تنا، بننا ، دودھ بلونا ، پنیر بنانا اور کبھی استعمال کرنا منع تھا۔بحالت احرام گھروں میں بھی داخل نہیں ہوتے تھے اور ایام حج میں خیمے استعمال کرتے ، خصوصاً چمڑے کے۔(عمدۃ القاری جزء ۰ اصفحہ ۳) ایسی قدیم رسوم کے پیش نظر ایسے باب قائم کئے گئے۔چنانچہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانیوں کے ہار بنایا کرتی تھی۔(روایت نمبر ۱۷۰۰) اور مس دروازے سے داخل ہونا بھی معیوب سمجھتے تھے۔جیسا کہ اوپر گذر چکا ہے۔روایت زمیر باب میں یہ جو ذ کر آیا ہے کہ مقام عرفات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر لوگ متعجب ہوئے اور ان میں سے بعض نے کہا کہ مَا شَانہ۔یعنی آپ تو قریش میں سے ہیں۔کیا ہوا کہ آپ حرم سے باہر چلے گئے ہیں۔یہ تعجب تو در حقیقت اسی قدیم رسم کی وجہ سے تھا۔شارحین کا خیال ہے کہ ان کے تعجب کی وجہ قرآن مجید کے حکم افیضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ سے ناواقفیت تھی۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۶۵۲) فَمَنْ لَّمْ يُعْطِهِ الْحُمْسُ طَافَ بِالْبَيْتِ عُرُيَانًا: روایت نمبر ۱۶۶۵ میں بھی جس کی ایک بدعت کا ذکر ہے جس کا تعلق بر ہنہ طواف کرنے سے ہے۔قدیم عرب روز مرہ کے کپڑوں میں طواف کرنا گناہ سمجھتے تھے۔ان کے نزدیک وہ کپڑے ناپاک تھے۔چنانچہ جب حج کی غرض سے بیت اللہ میں آتے تو یہی قریش حمس انہیں کپڑے دیتے۔جنہیں پہن کر طواف کرتے۔انہیں حلہ کا نام دیا گیا تھا۔اگر کپڑا دیا جاتا تو کپڑا پہن کر طواف کرتے۔ورنہ ننگے طواف کرتے۔جس کو اسلام نے منع کر دیا۔ایک تیسری قسم عربوں کی تھی جنہیں طلس کہا جاتا تھا۔وہ پھٹے پرانے غبار آلودہ کپڑوں میں ملبوس ہوتے اور اسی وجہ سے انہیں طلس کہا جاتا۔جو طلس سے مشتق ہے۔یعنی غبار۔حضرت ابراہیم و حضرت اسماعیل کو ارشاد ہوا: اَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ (البقرة :۱۲۶) تم دونوں میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف بیٹھنے والوں اور رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لیے خوب پاک وصاف بنائے رکھو۔تطہیر اور تزکیہ کایہ فرض ظاہر و باطن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں سے پورا ہوا۔مذکورہ بالا باب کا عنوان الْوُقُوفُ بِعَرَفَة کی نحوی ترکیب بتاتی ہے کہ امام بخاری کے مدنظر دوسرے مقامات میں وقوف کرنے کا رڈ ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ وقوف کا تعلق عرفات سے ہے۔باقی مقامات سے نہیں۔عرفات میں بمقام عرہ ظہر و عصر امام کے ساتھ باجماعت نماز جمع کی جاتی ہے اور اس عرصہ وقوف میں استغفار تسبیح وتحمید، ذکر الہی اور