صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 346
صحيح البخاری جلد ۳ ٢٥ - كتاب الحج يَطُوفُ فِيْهَا وَتُعْطِي الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ عورت کو کپڑے دیتی کہ انہیں پہن کر طواف کرے القِيَابَ تَطُوْفُ فِيْهَا فَمَنْ لَّمْ يُعْطِهِ اور جسے قریشی کپڑے نہ دیتے، وہ بیت اللہ کا ننگے ہی الْحُمْسُ طَافَ بِالْبَيْتِ عُرْيَانًا وَكَانَ طواف کرتا اور سب لوگ (وقوف) عرفات سے يُفِيضُ جَمَاعَةُ النَّاسِ مِنْ عَرَفَاتٍ لوٹتے اور قریش مزدلفہ سے ہی لوٹ آتے۔ ہشام وَيُفِيْضُ الْحُمْسُ مِنْ جَمْعِ قَالَ نے کہا کہ میرے باپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا وَأَخْبَرَنِي أَبِي عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ یہ آیت حمس عَنْهَا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي الْحُمْسِ کے بارے میں ہی نازل ہوئی تھی۔ یعنی پھر تم ( بھی ) ثُمَّ أَفِيضُوا مِنْ حَيْثُ أَفَاضَ النَّاسُ وہاں سے لوٹو جہاں سے لوگ لوٹتے ہیں۔ (ہشام نے) (البقرة : ٢٠٠) قَالَ كَانُوا يُفِيضُوْنَ مِنْ کہا کہ وہ مزدلفہ سے لوٹا کرتے تھے تو انہیں عرفات جَمْعِ فَدُفِعُوا إِلَى عَرَفَاتٍ۔ تک جانے کے لئے کہا گیا کہ وہاں سے لوٹا کرو۔ اطرافه: ٤٥٢٠۔ تشريح : الْوُقُوفُ بِعَرَفَة: وقوف عرفات جیسا کہ باب نمبر کی تشری میں بتایا جاچکا ہے، مناسک حج میں سے ایک ضروری رکن ہے۔ مکہ مکرمہ سے شمال مشرق سمت میں طائف کے راستے پر تقریباً نو میل اور مٹی سے چھ میل کے فاصلے پر ایک وسیع میدان ہے جو عرفات کے نام سے مشہور ہے۔ جہاں نویں ذوالحج کو حاجی جمع ہوتے ہیں۔ یہاں سب حاجیوں کا پہنچنا ضروری ہے۔ اگر کوئی حاجی نہیں جاتا تو اس کا حج ناقص ہوگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بذریعہ منادی اس بارہ میں تاکید فرمائی۔ اس تاکید کی وجہ یہ تھی کہ قریش اور وہ قبائل جن سے ازدواجی نسل اور مذہبی تعلقات و معاہدات تھے۔ یعنی بنوخزاعہ، بنو کنانہ، بنو عامر بن صعصع ثقیف اور لیٹ بن بکر وغیرہ حج کے وقت حرم مکہ سے باہر جانا نا جائز سمجھتے تھے۔ کیونکہ قریش اور مذکورہ بالا قبائل اپنے آپ کو بیت اللہ کا محافظ سمجھتے تھے۔ مکہ مکرمہ پر ایک زمانہ ایسا آیا کہ فقر و فاقہ کی وجہ سے یہ غیر آباد ہو گیا۔ قصی بن کلاب پہلے شخص تھے جنہوں نے متفرق قبائل کو جمع کیا اور مکہ مکرمہ میں انہیں دوبارہ آباد کیا اور اسی وجہ سے ان کا نام قریش ہوا۔ یعنی پراگندگی کے بعد جمع شده (السيرة النبوية لابن هشام، ذكر غلب قصي بن كلاب على امر مكة وجمعه امر قریش) مزید تفصیل کیلئے دیکھئے تفسیر کبیر - تفسیر سورۃ القریش، جلده اصفحہ ۹۳ تا ۱۱۲۔ مزدلفہ حرم مکہ میں شامل ہے۔ عرفات کا علاقہ اس سے باہر ہے۔ اس لئے مزدلفہ ہی سے قریش لوٹ آتے تھے۔ جبکہ دوسرے لوگ مقام امقام عرفات میں جا کر با جا کر باقی ماندہ مناسک پورے کرتے ۔ قریش اپنے آپ کو مس کہتے تھے اور دوسروں کو الہ“۔ یعنی وہ لوگ جن کو بوقت احرام حرم سے باہر جانا جائز ہے۔ حمس لفظ حماسہ سے افعل تفعیل ۔ ہے۔