صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 345
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۴۵ ٢٥-كتاب الحج بَاب ۹۱ : الْوُقُوْفُ بِعَرَفَةَ وقوف عرفات میں ہی ہوگا ١٦٦٤ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ۱۶۶۴: علی بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا۔سفیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَمْرٌو حَدَّثَنَا نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن دینار ) نے ہم سے بیان کیا، مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيْهِ ( کہا: ) محمد بن جبیر بن مطعم نے ہم سے بیان کیا کہ ان کے باپ سے مروی ہے (کہ انہوں نے کہا ) کہ كُنْتُ أَطْلُبُ بَعِيرًا لَّيْ۔۔۔میں ( عرفات کے دن ) اپنا ایک اونٹ تلاش کر رہا تھا۔وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ اور مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے عَمْرٍو سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيْهِ ہمیں بتایا کہ عمرو بن دینار ) سے مروی ہے کہ انہوں جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ أَضْلَلْتُ بَعِيْرًا لِي نے محمد بن جبیر سے سنا۔انہوں نے اپنے باپ حضرت جبیر بن مطعم سے روایت کی۔انہوں نے کہا فَذَهَبْتُ أَطْلُبُهُ يَوْمَ عَرَفَةَ فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ کہ میں نے اپنا ایک اونٹ کھو دیا اور میں عرفہ کے دن صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا بِعَرَفَةَ اسے تلاش کرنے لگا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فَقُلْتُ هَذَا وَاللَّهِ مِنَ الْحُمْسِ فَمَا عرفات میں وقوف کی حالت میں دیکھا۔میں نے کہا: بخدا آپ تو شمس ( یعنی پکے دیندار قریش میں سے ) شَأْنُهُ هَا هُنَا۔ہیں۔آپ کا یہاں کیا کام؟ ١٦٦٥: حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي :۱۶۶۵ فروہ بن ابی مغراء نے ہم سے بیان کیا۔علی الْمَغْرَاءِ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ بن مسہر نے ہمیں بتایا کہ ہشام بن عروہ سے مروی هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ عُرْوَةُ كَانَ النَّاسُ ہے کہ عروہ نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ ننگے ہو يَطُوْفُوْنَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ عُرَاةً إِلَّا کر طواف کیا کرتے تھے۔سوائے خمس کے اور تحمس الْحُمْسَ وَالْحُمْسُ قُرَيْشَ وَمَا وَلَدَتْ قریش اور اُن کی اولاد ہیں۔قریش لوگوں کو خدا کے وَكَانَتِ الْحُمْسُ يَحْتَسِبُونَ عَلَى واسطے پہنے کے کپڑے دیا کرتے تھے۔مرد مرد کو النَّاسِ يُعْطِي الرَّجُلُ الرَّجُلَ القِيَابَ کپڑے دیتا کہ انہیں پہن کر طواف کرے اور عورت