صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 344 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 344

صحيح البخاری جلد ۳ م بمم ٢٥ - كتاب الحج فُسْطَاطِهِ أَيْنَ هَذَا فَخَرَجَ إِلَيْهِ فَقَالَ کہ یہ کہاں ہے؟ تو حجاج ان کے پاس آئے۔ حضرت ابْنُ عُمَرَ الرَّوَاحَ فَقَالَ الْآنَ قَالَ نَعَمْ ابن عمرؓ نے کہا کہ چلنا ہے تو انہوں نے کہا: کیا ابھی؟ قَالَ أَنْظِرْنِي أُفِيْضُ عَلَيَّ مَاءً فَنَزَلَ ابْنُ فرمایا: ہاں۔ کہا کہ مجھے مہلت دیجئے کہ میں اپنے اوپر عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حَتَّى خَرَجَ پانی ڈال کر نہالوں ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا اترے؛ فَسَارَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي فَقُلْتُ إِنْ كُنْتَ یہاں تک کہ حجاج باہر آئے۔ میرے اور میرے باپ تُرِيدُ أَنْ تُصِيبَ السُّنَّةَ الْيَوْمَ فَاقْصُرِ کے درمیان چلنے لگے تو میں نے کہا: اگر آپ آج سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو خطبہ مختصر پڑھیں اور الْخُطْبَةَ وَعَجِّلِ الْوُقُوْفَ فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ صَدَقَ ۔ اطرافه: ١٦٦٠، ١٦٦٢۔ وقوف میں جلدی کریں۔ حضرت ابن عمرؓ نے کہا کہ (سالم نے ) سچ کہا ہے۔ تشریح : قَصْرُ الْخُطْبَةِ بِعَرَفَةَ: یہ وایت اس سے قبل نمبر ۱۲۰ میں گذر چکی ہے جوعبداللہ بن یوسف سے بروایت ابن شہاب زہری مروی ہے۔ مسئلہ معنونہ سے متعلق فقہائے عراق اور مدینہ کے درمیان اختلاف ہے۔ عراقی فقہاء خطبہ کے خلاف ہیں اور مدنی خطبہ ضروری سمجھتے ہیں اور یہی مذہب جمہور کا ہے۔ امام مالک کے نزدیک ہر نماز کے لئے کہ جس میں خطبہ ہو قرآت بالجہر ضروری ہے۔ سوائے ان نمازوں کے جو عرفات میں پڑھی جائیں ۔ اہل عراق نے امام مالک کی را۔ رائے کے پیش نظر مقام عرفات میں خطبہ کو ضروری نہیں سمجھا۔ مگر روری نہیں سمجھا ۔ مگر امام بخاری نے : جو روایت یہاں نقل کی ہے؛ وہ امام مالک ہی سے مروی ہے اور مستند ہے۔ اس میں خطبہ کی صراحت ہے۔ فقہاء عراق کے نقطہ نظر کی تائید کسی مستند روایت سے ثابت نہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۶۴۹) بَاب : التَّعْجِيلُ إِلَى الْمَوْقِفِ عرفات میں مقام وقوف کی طرف جلدی جانا تشریح : اس بات سے بھی نسخوں ہو عنوان باب کے تحت کوئی حد یہ احدیث بیان نہیں کی گئی۔ جبکہ اس کے ماقبل باب کی کی روایت سے مسئلہ معنونہ کا اہے ۔ صحیح بخاری کے وں میں مذکورہ بالا مسئلہ ما قبل بار بالا مسئله ما قبل باب کی روایت کے تحت موجود ہے اور صرف اسی باب پر اکتفا کیا گیا ہے۔ بعض شارحین کی رائے ہے کہ نئی سند سے مذکورہ بالا روایت اُنہیں نہیں ملی۔ سو اس لئے سابقہ روایت پر اکتفا کیا گیا ہے۔ کیونکہ امام موصوف کی یہ عادت ہے کہ بوقت تکرار ؛ روایت کوئی سند سے پیش کرتے ہیں اور کوئی روایت اسی صورت میں لاتے ہیں؛ جب سندنئی ہو یا متن میں کوئی تبدیلی یا سلسلہ روایت میں فرق ہو۔ مثلاً موصول ہو یا منقطع یا مطول ہو یا مختصر ۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۶۵۰ )