صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 343
صحيح البخاری جلد۳ ٢٥ - كتاب الحج بِالصَّلَاةِ يَوْمَ عَرَفَةَ فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سالم نے کہا: اگر آپ سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو عُمَرَ صَدَقَ إِنَّهُمْ كَانُوا يَجْمَعُوْنَ بَيْنَ پھر عرفات کے دن نماز دو پہر ڈھلنے پر پڑھیں۔الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فِي السُّنَّةِ فَقُلْتُ حضرت عبد اللہ بن عمر نے کہا کہ سالم نے سچ کہا ہے۔سنت تو یہی ہے کہ وہ ظہر و عصر جمع کیا کرتے تھے۔لِسَالِمٍ أَفَعَلَ ذَلِكَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى (زہری کہتے ہیں کہ) میں نے سالم سے کہا: کیا اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَالِمٌ وَهَلْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا تو سالم نے کہا کہ آپ لوگ اس مسئلہ میں آپ کی سنت يَتَّبِعُونَ بِذَلِكَ إِلَّاش لگا اور اطرافه: ١٦٦٠، ١٦٦٣ - کے سوا کسی اور کی پیروی نہیں کرتے۔۔٤٠٠۔اَلْجَمْعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ : امام ابوحنیفہ کے نزدیک مسافر کے لئے نمازیں جمع کرنے کی اجازت تشریح: ہے اور اس مقیم کے لئے بھی جو امام حج کے ساتھ نمازیں پڑھے۔لیکن اگر اکیلا ہو تو اُس کے لیے جائز نہیں امام محمد اور ابو یوسف نے ان سے اس بارہ میں اتفاق نہیں کیا۔اسی طرح امام شافعی اور امام مالک نے بھی بلکہ ائمہ کے نزد یک جمع کرنا بھی مناسک حج ہی میں سے ہے۔اسی اختلاف کے پیش نظر یہ باب قائم کیا گیا ہے۔بَابِ ۹۰: قَصْرُ الْخُطْبَةِ بِعَرَفَةَ عرفات میں خطبہ مختصر پڑھنا (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۳۰۴) ١٦٦٣: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۶۶۳: عبد اللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا کہ مَسْلَمَةَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مالک نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے ابن شہاب سے، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ ابن شہاب نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ ابْنَ مَرْوَانَ كَتَبَ إِلَى الْحَجَّاجِ أَنْ عبد الملك بن مروان نے حجاج کو لکھا کہ وہ حج میں يَأْتَمَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْن عُمَرَ فِي الْحَجّ فَلَمَّا حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کی پیروی کریں۔جب عرفات كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ جَاءَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ کا روز ہوا تو حضرت عبداللہ ) بن عمر رضی اللہ عنہما اللهُ عَنْهُمَا وَأَنَا مَعَهُ حِيْنَ زَاغَتِ جب سورج جھکا یا ڈھل چکا تو حجاج کے خیمہ کے پاس الشَّمْسُ أَوْ زَالَتْ فَصَاحَ عِنْدَ آئے اور میں ان کے ساتھ ہی تھا تو انہوں نے پوچھا عمدۃ القاری میں اس جگہ لفظ تَتَّبِعُونَ“ ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۳۰۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔