صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 342
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۴۲ ٢٥- كتاب الحج طرح نماز میں قنوت یعنی آخری رکعت میں رکوع کے بعد بحالت قیام حمد و ثنا اور دعا کرنا۔وقوف عرفات میں بھی اسی طرح تسبیح وتحمید اور دعا کی جاتی ہے۔عرفات مکہ مکرمہ سے جانب شمال طائف کے راستے پر تقریباً نو میل دور واقع ہے اور منی تقریباً چھ میل کے فاصلے پر ہے۔یہ ایک وسیع میدان ہے۔جہاں نویں ذوالحج کو تمام حاجی جمع ہوتے ہیں۔ارکان حج میں سے وقوف عرفات ایک ضروری رکن ہے۔ایک روایت میں ہے کہ جو صبح ہونے سے قبل عرفات پہنچ گیا، اس نے حج پالیا۔یہاں سے دسویں ذوالحج کی رات کو لوگ مزدلفہ میں جمع ہوتے ہیں۔دراصل وقوف عرفات کے بارہ میں اختلاف ہے۔آیا سواری پر بیٹھے یا اُتر کر وقوف کیا جائے اور یہ کہ ان دونوں میں سے افضل کونسا ہے۔امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک دونوں برابر ہیں۔حالات کے ماتحت عمل کیا جائے۔اگر کھڑے ہو کر تھکان اور اکتاہٹ محسوس ہوتو سواری پر بیٹھ کر وقوف ہونا چاہیے۔کیونکہ عبادت ، ذکر الہی اور دعاؤں کے لئے توجہ اور اطمینان کی ضرورت ہے۔بعض ائمہ نے امیر حج کے لئے سوار ہو کر وقوف کرنے کو مستحب قرار دیا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۹ صفحه ۳۰۳) ( فتح الباری جز ۳۶ صفحه ۶۴۷) یہ وہ اختلاف ہے جس کی وجہ سے یہ باب قائم کیا گیا ہے۔عنوانِ باب مصدر یہ ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امام بخاری کے نزدیک دونوں طرح جائز ہے۔باب ۸۹: اَلْجَمْعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ بِعَرَفَةَ عرفات میں دو نمازیں ( ظہر و عصر ) جمع کرنا وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِذَا حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب ( عرفات میں ) امام فَاتَتْهُ الصَّلَاةُ مَعَ الْإِمَامِ جَمَعَ بَيْنَهُمَا کے ساتھ نماز پڑھنے سے رہ جاتے تو بعد میں نمازیں جمع کرتے۔١٦٦٢ : وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي :۱۶۶۲ اور لیث نے کہا کہ عقیل نے مجھ سے بیان عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي کیا کہ ابن شہاب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: سَالِمٌ أَنَّ الْحَجَّاجُ بْنَ يُوْسُفَ عَامَ سالم نے مجھے خبر دی کہ حجاج بن یوسف جس سال نَزَلَ بِابْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑائی کے سَأَلَ عَبْدَ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَيْفَ لئے مکہ میں خیمہ زن ہوئے تو انہوں نے حضرت تَصْنَعُ فِي الْمَوْقِفِ يَوْمَ عَرَفَةَ فَقَالَ عبدالله بن عمر ) رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ عرفات سَالِمٌ إِنْ كُنْتَ تُرِيْدُ السُّنَّةَ فَهَجَرْ کے روز آپ وقوف کے مقام میں کیا کرتے ہیں؟ تو