صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 341 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 341

صحيح البخاري - جلد ۳ ۳۱ ٢٥ - كتاب الحج مسند احمد بن حنبل اور ابوداؤد وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت مذکور ہے کہ صبح کی نماز پڑھنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منی سے کوچ فرمایا اور عرفات میں مقام نمرہ میں اُترے، جہاں امام کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے ۔ امام بخاری کے نزدیک بلحاظ سند یہ روایت کمزور ہے۔ اس بارہ میں حضرت جابر بن عبداللہ سے ایک روایت منقول ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج نکلنے کے بعد کوچ فرمایا تھا ہے باب ۸۸ : الْوُقُوْفُ عَلَى الدَّابَّةِ بِعَرَفَةَ عرفات میں سواری پر رہتے ہوئے وقوف کرنا ١٦٦١: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۱۶۶۱: عبداللہ بن مسلمہ نے ہم سے بیان کیا۔ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ أَبِي النَّضْرِ عَنْ انہوں نے مالک سے، مالک نے ابونضر سے، انہوں عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ الْعَبَّاسِ عَنْ أُمِّ نے حضرت عبداللہ بن عباس کے آزاد کردہ غلام عمیر الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ أَنَّ نَاسًا سے، عمیر نے حضرت ام الفضل بنت حارث سے روایت کی کہ کچھ لوگوں نے ان کے پاس عرفات کے اخْتَلَفُوا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صَوْمِ روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارہ میں النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اختلاف کیا۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ آپ بَعْضُهُمْ هُوَ صَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَيْسَ روزے سے ہیں اور ان میں سے بعض نے کہا کہ بِصَائِمٍ فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ آپ روزے سے نہیں۔ تو انہوں نے آپ نے آپ کو دودھ کا وَاقِفٌ عَلَى بَعِيْرِهِ فَشَرِبَهُ۔ پیالہ بھیجا جبکہ آپ اپنے اونٹ پر وقوف کی حالت میں تھے۔ آپ نے وہ پی لیا۔ اطرافه: ١٦٥٨ ، 1988 ، ٥٦٠٤، ٥٦١٨، ٥٦٣٦۔ تشريح : الْوُقُوفُ عَلَى الدَّابَّةِ بِعَرَفَة : مذکور با عنوان ایک رات کے پیش نظر قائم کیاگیا ہے۔ جس کے یہ الفاظ ہیں: إِيَّاكُمْ أَنْ تَتَّخِذُوا ظُهُورَ دَوَائِكُمْ مَنَابِرَ (ابوداؤد، كتاب الجهاد، باب في الوقوف على الدابة یعنی سواریوں کی پیٹھوں کو منبر بنانے سے گریز کرو۔ یعنی ان پر سختی نہ ہو۔ سفر بھی کریں اور پھر ان کو بجائے آرام کے ان کی پیٹھوں پر سوار رہ کر مناسک حج ادا کئے جائیں ۔ جن میں سے وقوف عرفات بھی ہے۔ یعنی عرفات کے میدان میں ٹھہرنا ، عبادت اور ذکر الہی میں مشغول ہونا اور دعائیں کرنا اور یہ وقوف اسی طرح کا ہے۔ جس (ابوداؤد، کتاب المناسک، باب الخروج الى العرفة) (مسند احمد بن حنبل، جلد ۲ صفحہ ۱۲۹) (مسلم، کتاب الحج، باب حجة النبي) (ابوداؤد، کتاب المناسک، باب صفة حجة النبي)