صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 340
صحيح البخاری جلد۳ ۳۰ ٢٥-كتاب الحج عَنْ سَالِمٍ قَالَ كَتَبَ عَبْدُ الْمَلِكِ إِلَى ابن شہاب نے سالم سے روایت کی۔انہوں نے کہا: الْحَجَّاجِ أَنْ لَّا يُخَالِفَ ابْنَ عُمَرَ فِي عبد الملک نے حجاج کولکھا کہ وہ حج کے بارہ میں حضرت الْحَجِّ فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ابن عمر کے خلاف نہ کرے۔حضرت ابن عمر عرفہ وَأَنَا مَعَهُ يَوْمَ عَرَفَةَ حِيْنَ زَالَتِ کے دن آئے اور میں ان کے ساتھ ہی تھا؛ اس وقت الشَّمْسُ فَصَاحَ عِنْدَ سُرَادِقِ جبکہ سورج ڈھل چکا تھا اور حجاج کے ڈیرے پر پہنچ کر الْحَجَّاجِ فَخَرَجَ وَعَلَيْهِ مِلْحَفَةٌ انہوں نے زور سے آواز دی تو حجاج نکلے اور وہ کسم میں رنگی ہوئی زرد چادر اوڑھے تھے تو انہوں نے کہا: مُّعَصْفَرَةٌ فَقَالَ مَا لَكَ يَا أَبَا عَبْدِ ابوعبدالرحمن کیا بات ہے؟ تو (حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے ) الرَّحْمَنِ فَقَالَ الرَّوَاحَ إِنْ كُنْتَ تُرِيْدُ کہا کہ چلنا ہوگا، اگر آپ سنت کی پیروی چاہتے ہیں السُّنَّةَ قَالَ هَذِهِ السَّاعَةَ قَالَ نَعَمْ قَالَ تو حجاج نے کہا: کیا اسی وقت؟ کہا: ہاں۔تو انہوں نے فَأَنْظِرْنِي حَتَّى أُفِيْضَ عَلَى رَأْسِي ثُمَّ کہا کہ مجھے اتنی مہلت دیجئے کہ میں سر پر پانی ڈال لوں۔أَخْرُجُ فَنَزَلَ حَتَّى خَرَجَ الْحَجَّاجُ پھر میں نکلوں گا۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ سواری سے فَسَارَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَبِي فَقُلْتُ إِنْ كُنْتَ اُترے۔یہاں تک کہ حجاج باہر آئے اور وہ میرے اور تُرِيدُ السُّنَّةَ فَاقْصُرِ الْخُطْبَةَ وَعَجِّل میرے باپ کے درمیان چلنے لگے۔میں نے حجاج الْوُقُوْفَ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى عَبْدِ اللهِ سے کہا: اگر آپ سنت کی پیروی چاہتے ہیں تو خطبہ فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ صَدَقَ مختصر پڑھیں اور وقوف میں جلدی کریں۔وہ حضرت عبداللہ کی طرف دیکھنے لگے۔جب حضرت عبداللہ اطرافه: ١٦٦٢، ١٦٦٣۔تشریح: نے یہ دیکھا تو انہوں نے کہا: (سالم نے ) سچ کہا ہے۔اَلتَّهْجِيْرُ بِالرَّوَاحِ يَوْمَ عَرَفَة: اس سے مراد مقام نمرہ سے میدانِ عرفات کی طرف ظہر کے اول وقت میں جانا ہے۔(تفصیل کے لئے دیکھئے عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۳۰۲۳۰۱) كَتَبَ عَبْدُ الْمَلِكِ إِلَى الْحَجَّاجِ اَنْ لَّا يُخَالِفَ ابْنَ عُمَرَ فِي الْحَجَ: حجاج بن یوسف ثقفی، عبدالملک بن مروان اموی کے عہد امارت میں مکہ مکرمہ کے والی تھے اور مناسک حج انہی کے اقتدا میں حسب دستور اسلامی ادا ہوتے تھے۔اس لئے عبدالملک نے ان کو ہدایت کی کہ مناسک حج کی ادائیگی حضرت عبداللہ بن عمر کی اتباع میں ہو۔