صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 339
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۳۹ ٢٥ - كتاب الحج تشریح : صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ : امام مسلم نے مذکورہ بالا سکہ کے بارہ میں بعض روایتی نقل کی ہیں لے جو امام بخاری کے نزدیک مستند ہیں۔ چنانچہ باب کا عنوان ناتمام ا نا تمام رکھا ہے۔ بعض شارحین نے اس روز روزہ رکھنا مگر وہ خیال کیا ہے اور بعض نے مستحب، بشرطیکہ سفر کی وجہ سے کوفت اوجہ سے کوفت نہ ہو۔ صحابہ کرام میں سے بعض نے اس روز روزہ رکھا اور بعض نے نہیں۔ جس سے یہ اخذ کیا گیا ہے کہ اگر عرفہ کے دن دعا ئیں وغیرہ کرنے میں کمزوری مانع نہ ہو تو روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھئے عمدہ القاری جزء ۹ صفحہ ۳۰۰۔ نیز کتاب الصوم، باب صوم يوم عرفة - بَاب ٨٦ : التَّلْبِيَةُ وَالتَّكْبِيرُ إِذَا غَدَا مِنْ مِّنَى إِلَى عَرَفَةَ لبیک اور تکبیر کہنا ، جب صبح منی سے عرفات کی طرف روانہ ہو ١٦٥٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۱۶۵۹: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مالک نے ہمیں خبر دی کہ محمد بن ابی بکر ثقفی سے مروی أَبِي بَكْرِ الثَّقَفِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ أَنَسَ بْنَ ہے کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک سے پوچھا مَالِكٍ وَهُمَا غَادِيَانِ مِنْ مِنِّى إِلَى عَرَفَةَ جَبکہ وہ دونوں صبح کے وقت منی سے عرفات کی طرف كَيْفَ كُنتُمْ تَصْنَعُوْنَ فِي هَذَا الْيَوْمِ مَعَ روانہ ہو رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسا اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ آپ اس دن کیا کیا کرتے تھے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم میں سے لبیک پکارنے والا لبیک پکارتا تو کوئی اس كَانَ يُهِلُّ مِنَّا الْمُهِلُ فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ کی یہ بات بُری نہ مانتا اور ہم میں سے تکبیر کہنے والا وَيُكَبِّرُ مِنَّا الْمُكَبِّرُ فَلَا يُنْكِرُ عَلَيْهِ۔ تکبیر کہتا تو کوئی اس کی یہ بات بھی بڑی نہ سمجھتا۔ اطرافه: ۹۷۰ تشريح : التَّلْبِيَةُ وَالتَّكْبِيرُ إِذَا غَذَا مِنْ مِنَى إِلَى عَرَفَةَ: بعض کا خیال ہے کہستی سے عرفات کی طرف کوچ کرتے وقت محرم کو تلبیہ نہیں کہنا چاہیے۔ اس باب میں اس خیال کے لوگوں کا رو مقصود ہے۔ اس تعلق میں باب نمبر اوا کی تشریح بھی دیکھئے۔ باب ۸۷ : التَّهْجِيْرُ بِالرَّوَاحِ يَوْمَ عَرَفَةَ عرفہ کے دن دو پہر کے وقت گرمی میں روانہ ہونا ١٦٦٠: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ ۱۶۶۰: عبداللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا کہ يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ مالک نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابن شہاب سے، (مسلم، کتاب الصيام، باب استحباب صيام ثلاثة ايام من كل شهر وصوم يوم عرفة وعاشوراء)