صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 338 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 338

صحيح البخاري - جلد۳ ۳۳۸ ٢٥- كتاب الحج وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ صلى اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دو رکعتیں نماز پڑھی اور اللهُ عَنْهُ رَكْعَتَيْنِ وَمَعَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی اور حضرت عمر رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ تَفَرَّقَتْ بِكُمُ الطُّرُقُ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعتیں۔پھر اس کے ردو فَيَا لَيْتَ حَظِي مِنْ أَرْبَعِ رَكْعَتَانِ بعد تم میں کئی اختلاف ہو گئے۔کاش مجھے چار رکعتوں کے بدلے دور کعتیں نصیب ہوں جو مقبول ہوں۔مُتَقَبَّلَتَان۔اطرافه: ١٠٨٤- تشریح الصَّلَاةُ بِمِنی: مٹی میں نماز پوری پڑھی جائے یا قصر؟ اس کے لیے دیکھئے کتاب تقصیر الصلاة باب ۲۔وہی روایتیں یہاں نقل کی گئی ہیں ، مگر کسی قدر تبدیلی کسند کے ساتھ۔فَيَالَيْتَ حَظِى مِنْ اَرْبَعِ رَكْعَتَانِ مُتَقَبَّلَتَانِ : با الفاظ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے ہیں۔جن سے ظاہر ہے کہ حضرت عثمان کی اتباع بوجہ احترام خلافت انہوں نے مقدم رکھی ؛ بحالیکہ ان کی اپنی رائے قصر کے بارہ میں رہی ہے، جو انہوں نے مذکورہ بالا الفاظ میں ظاہر کی ہے۔بَاب ٨٥ : صَوْمُ يَوْمِ عَرَفَةَ عرفہ کے روز روزہ رکھنا ١٦٥٨ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ :۱۶۵۸ علی بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ حَدَّثَنَا سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔زہری سے مروی سَالِمٌ قَالَ سَمِعْتُ عُمَيْرًا مَوْلَى أُمّ ہے کہ انہوں نے کہا:) سالم نے ہم سے بیان کیا، الْفَضْلِ عَنْ أُمِ الْفَضْلِ شَكٌّ النَّاسُ يَوْمَ کہا: میں نے حضرت ام فضل کے آزاد کردہ غلام عمیر عَرَفَةَ فِي صَوْمِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ سے نا کہ حضرت ام فضل سے روایت ہے کہ عرفہ کے روز لوگوں کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روزہ کی نسبت شک ہوا تو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وَسَلَّمَ فَبَعَثْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابٍ فَشَرِبَهُ۔شربت بھیجا تو آپ نے وہ پی لیا۔اطرافه: ۱٦٦١ ، ۱۹۸۸، ٥٦٠٤، ٥٦١٨، ٠٥٦٣٦