صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 336 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 336

صحيح البخاری جلد۳ ۳۳۶ ٢٥- كتاب الحج حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ حضرت انسؓ سے ملا اور اسماعیل بن ابان نے مجھ سے خَرَجْتُ إِلَى مِنِّى يَوْمَ التَّرْوِيَةِ فَلَقِيْتُ بیان کیا، کہا: ) ابوبکر ( بن عیاش) نے ہمیں بتایا عبدالعزیز أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ذَاهِبًا عَلَى حِمَارٍ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: میں آٹھویں ذوالحج کومنٹی فَقُلْتُ أَيْنَ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ کی طرف گیا اور حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ملا۔ایک وَسَلَّمَ هَذَا الْيَوْمَ الظُّهْرَ فَقَالَ انْظُرْ گدھے پر سوار جارہے تھے۔میں نے پوچھا: نبی ہے نے آج کے دن ظہر کی نماز کہاں پڑھی تھی ؟ تو انہوں نے حَيْثُ يُصَلِّى أُمَرَاؤُكَ فَصَلَّ۔کہا: دیکھو جہاں تمہارے امیر نماز پڑھیں تم بھی وہیں پڑھو۔اطرافه: ١٦٥٣، ١٧٦٣ تشریح: أَيْنَ يُصَلَّى الظُّهَرَ يَوْمَ التَّرُوِيَةِ : يوم الترویہ سے مراد آٹھویں ذوالج ہے۔ترویہ کے معنی اچھی طرح پانی پلانا۔مکہ مکرمہ سے کوچ کرتے وقت اونٹوں کو اچھی طرح پانی پلایا کرتے تھے اور خود بھی پانی لے لیتے کیونکہ ان دنوں اس علاقہ میں پانی نایاب تھا۔(فتح الباری جز ۳۶ صفحہ ۶۴۰) (عمدۃ القاری جز ۹۶ صفحه ۲۹۶) اب تو نہر زبیدہ اور کاریزوں وغیرہ کے ذریعہ سے میٹھے پانی کا عمدہ انتظام ہے۔منی مکہ مکرمہ سے مشرق کی طرف تین میل کے فاصلہ پر دو پہاڑیوں کے درمیان ہے۔ان میں سے اونچی پہاڑی ٹبیر ہے۔ائمہ اور فقہاء کا مسئلہ معنونہ کے بارے میں اتفاق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھنے کے بعد مکہ مکرمہ سے کوچ فرمایا۔آپ نے ظہر اور باقی نمازیں منی میں پڑھیں۔مگر وہ اسے صحت حج کے لئے شرط قرار نہیں دیتے۔( بداية المجتهد، كتاب الحج، الخروج إلى عرفة يقول كه صحابه و تا بعین نماز ظہر پڑھ کر مکہ مکرمہ سے کوچ کیا کرتے تھے، کمزور ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۲۹۷) اس ضمن میں باب ۱۴۴ بھی دیکھئے۔الحق بن یوسف از رق کی روایت نمبر ۱۶۵۳ اسے متعلق یہ اعتراض ہے کہ وہ اس روایت میں منفرد ہیں۔چونکہ سفیان ثوری کی روایت ہے کہ منی میں نماز پڑھی گئی۔اس لئے اسے پہلے درج کر کے اس کے بعد روایت نمبر ۱۶۵۴ سے یہ اعتراض دور کیا ہے جس سے ظاہر ہے کہ ان کی روایت مستند ہے۔یہی روایت محمد بن نئی سے بھی مروی ہے۔( نمبر ۱۷۶۳) اور اس سے فقہاء کی تائید ہوتی ہے کہ منی میں ظہر پڑھنا ضروری شرط نہیں۔لیکن جیسا کہ روایت نمبر ۱۶۴۷ ( باب نمبر ۸۰) کی تشریح کے ضمن میں بتایا جا چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع بہر حال افضل ہے۔آپ کی کوئی حرکت وسکون بھی روح القدس کی تجلی سے خالی نہ تھی۔اس لئے سنت نبویہ کی اقتداء بہر حال افضل و اولی ہے۔وادی اپنے کھلی جگہ ہے۔جب حجاج صفا و مروہ کے درمیان سے منیٰ کی طرف جاتے ہیں تو سب کو اس وادی سے گزرنا پڑتا ہے۔پہلی وادی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے نام سے مشہور ہے۔حجاج کا راستہ صرف مشرق کی طرف کچھ مڑ کر پتھریلی زمین سے گزرتا ہے اسے اصطلح یا محصب کہتے ہیں۔انطح کے معنے ہیں کھلی وادی۔محصب کے معنی سنگریزوں والی زمین۔يوم النفر سے مراد وہ دن ہے جب حج کر کے منی سے واپس مکہ مکرمہ کو آتے ہیں۔اصطلح یا محصب مکہ مکرمہ سے متصل ہے اور آج کل وہاں آبادی ہے جو شہر کا حصہ ہے۔امراء سے مراد خلفاء وقت یا ان کے مقرر کردہ امراء ہیں۔