صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 20 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 20

صحيح البخاری جلد ۳ ٢٤ - كتاب الزكاة نشو ونما کا۔یہ تیسرا حکم ہے اسلامی تعلیم کے ان احکام میں سے جن کا تعلق اقتصادی اصلاح اور اجتماعی بہبود سے ہے۔بخیل انسان سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے اس کے مال میں کمی آ جائے گی۔لیکن اس کا یہ خیال غلط ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَا آتَيْتُمُ مِنْ زَكَوةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللهِ فَأُولَئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ (الروم: ٤٠) یعنی اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی خاطر دی ہوئی زکوۃ مال بڑھانے کا موجب ہوتی ہے۔اس ضمن میں کتاب الزکوۃ کے باب نمبر ۱۰ ۱۱ ، ۲۷، ۲۸ کی تشریح بھی دیکھئے۔بَاب ٤ : مَا أُدِيَ زَكَاتُهُ فَلَيْسَ بِكَنْزِ جس مال کی زکوۃ دے دی جائے وہ کنز ( یعنی مال قابل زکوۃ ) نہیں رہتا لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچ اوقیہ لَيْسَ فِيْمَا دُوْنَ خَمْسَةِ أَوَاقٍ صَدَقَةٌ۔سے کم (چاندی) میں زکوۃ نہیں۔١٤٠٤: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ شَبِيْبِ ۱۴۰۴: احمد بن شبیب بن سعید نے ہم سے بیان بْنِ سَعِيْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ يُونُسَ عَنِ کیا، کہا: ) میرے باپ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابْنِ شِهَابٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالَ یونس سے یونس نے ابن شہاب سے، ابن شہاب خَرَجْنَا مَعَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ نے خالد بن اسلم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: ہم اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ أَخْبِرْنِي عَنْ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ نکلے تو قَوْلِ اللَّهِ: وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ ایک بدوی نے پوچھا: مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُوْنَهَا فِي سَبِيْلِ سنے بتا: وَالَّذِيْنَ يَكْبِرُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: جس نے لا الله۔(التوبة: ٣٤) قَالَ ابْنُ عُمَرَ (سونے چاندی کو ) جمع کر رکھا اور اس کی زکوۃ نہ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مَنْ كَنَزَهَا فَلَمْ يُؤَدِّ دی۔اس کے لئے ہلاکت ہے اور یہ آیت زکوۃ کا زَكَاتَهَا فَوَيْلٌ لَّهُ إِنَّمَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ حکم نازل کئے جانے سے پہلے کی ہے۔جب زکوۃ تُنْزَلَ الزَّكَاةُ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ جَعَلَهَا اللَّهُ فرض ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو مالوں کے پاک طُهْرًا لِلْأَمْوَالِ۔اطرافه: ٤٦٦١۔کرنے کا ذریعہ بنا دیا۔