صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 19
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۹ ٢٤ - كتاب الزكاة وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ { بِمَا گلے کا ہار ہوگا ۔ پھر وہ اس کی دونوں باچھیں پکڑے گا۔ پھر انتهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُمْ کہے گا: میں تیرا مال ہوں۔ میں تیرا خزانہ ہوں ۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت پڑھی کہ جنہیں اللہ تعالی نے اپنے فضل بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا سے دیا ہو اور وہ اس میں بخل کریں تو وہ یہ نہ سمجھیں کہ یہ بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيمَةِ } الآيَةَ ۔ بخل ان کے لئے بہتر ہے۔ نہیں بلکہ وہ ان کے لئے بہت (آل عمران : ۱۸۱) ہی بُرا ہے۔ عنقریب قیامت کے دن وہ مال جس سے اطرافه: ٤٥٦٥، 4659، 6957۔ متعلق انہوں نے بخل کیا ان کے گلے کا ہار بنایا جائے گا میں تشریح : اثْمُ مَانِعِ الزَّكَاةِ: احکام کیاہمیت اورعدم اہمیت کا پتہ اس جزا وسزا سے چلتا ہے جو عمل کے بجا لانے یا نہ بجالانے پر مرتب ہوتی ہے۔ یہی اصل مد نظر رکھ کر باب ۳ قائم کیا گیا ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ تارک زکوۃ کس قسم کی خطرناک سزا کا مستحق ہوگا۔ اس لئے قرآن مجید میں اس کی نوعیت دردناک بتائی گئی ہے۔ یہی جمع کردہ سونا چاندی جہنم کی آگ میں گرم کر کے اس سے ان کی پیشانیاں، پیٹھیں اور ان کے پہلو دا نھے جائیں گے۔ روایت نمبر ۱۴۰۳ میں جس سزا کا ذکر کیا گیا ہے وہ بیان حقیقت ہے۔ عالم آخرت میں اعمال کس طرح مختلف شکلوں میں متمثل ہوں گے؟ اس کے مفصل بیان کے لیے دیکھئے: اسلامی اصول کی فلاسفی ۔ ” دوسرا دقیقه معرفت صفحه ۹۴ تا ۹۸، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۰۸ تا ۴۱۲ سَيُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : روایت نمبر ۱۴۰۳ میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اس کے مفہوم کی نسبت علماء کے درمیان اختلاف ہوا ہے کہ آیا سچ مچ ان کا مال گردن کا ہار بنے گایا استعارہ ہے جس سے یہ مراد ہے کہ وہ اُن کے لئے وبالِ جان ہوگا۔ حیات آخرت کے جتنے حالات ہیں ان کو ہم دنیا کی زندگی کے واقعات پر ہی قیاس کر کے سمجھ سکتے ہیں۔ ان کے سمجھنے کا اس کے سوا اور کوئی طریق نہیں۔ ان کی اصل حقیقت ہم سے مخفی ہے۔ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ ( حم السجدة : (۱۸) { پس کوئی ذی روح نہیں جانتا کہ اُن کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا کر رکھا گیا ہے۔ تفصیل کے لئے دیکھئے: اسلامی اصول کی فلاسفی موت کے بعد انسان کی کیا حالت ہوتی ہے؟“ صفحہ ۸۲، روحانی ؟ صفحه ۸۲ ، روحانی خزائن جلده اصفحہ ۳۹۶۔ امام بخاری نے بھی اس بیان کو تشبیہ قرار دے کر قرآن مجید کی ایک آیت کے حوالہ سے اس کا مفہوم واضح کیا ہے۔ (دیکھئے کتاب الزکوۃ ، باب نمبر ۴۳) محولہ بالا آیت سے ظاہر ہے کہ اسلام نے ذخیرہ اندوزی ممنوع قرار دی ہے۔ مال کسب معاش کا ذریعہ ہے اور اسے بے کار محفوظ رکھنا گناہ ۔ اس صورت میں اس کی زکوۃ بہر حال ادا ہوگی۔ اس طرح زکوۃ بڑا محرک ہے؟ کسب و اکتساب کے دائرہ کی توسیع اور ملکی ثروت کے یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ کے مطابق ہیں ۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۳۳۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔