صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 334
صحيح البخاری جلد ۳ م سمسم ٢٥ - كتاب الحج بِالْحَقِّ وَقَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ احرام کھولے رکھا اور مکہ کو ہم نے اپنی پیٹھ کی جانب أَهْلَلْنَا مِنَ الْبَطْحَاءِ۔ وَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ رکھا ۔ ہم نے حج کا لبیک پکارا اور ابوز بیر نے کہا: حضرت جُرَيْجٍ لِابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا جابرؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم نے بطحاء سے احرام باندھا اور عبید بن جریج نے حضرت ابن عمر رَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ جب إِذَا رَأَوُا الْهِلَالَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّى آپ مکہ میں ہوں تو لوگ جب ہلال کو دیکھیں تو احرام صلى اللهم نہیں يَوْمَ التَّرْوِيَةِ فَقَالَ لَمْ أَرَ النَّبِيَّ صَلَّى باندھتے ہیں اور آپ آٹھویں تاریخ تک احرام اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ باندھتے ؟ تو انہوں نے کہا: میں نے نبی ﷺ کو احرام باندھتے نہیں دیکھا جب تک کہ آپ کی اونٹنی آپ کو رَاحِلَتُهُ۔ منی جانے کے لئے ) لے کر اُٹھ کھڑی نہ ہوتی۔ ے تشريح : الْإِهْلَالُ مِنَ الْبَطْحَاءِ وَغَيْرِهَا لِلْمَكِي وَلِلْحَا : اب مبر ہوا میں ہل یک اور ریح کرنے والوں کے احرام باندھنے کی جگہ کا ذکر باندھنے کی جگہ کا ذکر گزر چکا ہے۔ یہ با یہ باب ایک اختلاف کی وجہ سے قائم کیا گیا ہے کہ حج کے ایام میں مکی کہاں سے احرام باندھے۔ امام شافعی کے نزدیک مکہ ہی سے احرام باندھنا چاہیے۔ امام ابو حنیفہ کے نزدیک حدود حرم کے اندر کسی جگہ باندھا جا سکتا ہے مگر مسجد حرام سے باندھنا افضل ہے۔ امام مالک اور امام احمد بن حنبل و اسحق بن راہویہ کے نزدیک وادی مکہ سے باندھنا چاہیے۔ (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۲۹۵) ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۶۳۹) امام بخاری نے عنوان باب کو مصدر یہ قائم کر کے دونوں مذہبوں کو یکساں گردانا ہے۔ صلى الله الْإِهْلَالُ ۔۔۔۔ إِذَا خَرَجَ إِلَى مِنّى : دوسرا اختلاف احرام باندھنے کے وقت میں ہے۔ ایک فریق کی یہ رائے ہے کہ ہلال دیکھنے پر احرام باندھا جائے اور دوسرے فریق کی رائے میں آٹھویں ذوالحج کو احرام باندھنا چاہیے جب منی کی طرف جانے لگے۔ عنوان باب میں عطاء بن ابی ربائی کے دو حوالے دیئے گئے ہیں۔ ان سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ آٹھویں تاریخ کو آنحضرت رت علی اور آپ کے صحابہ ایسی حالت میں نکلے کہ کہ وہ وہ احرام احرام باندھے باند۔ ہوئے تھے۔ جَعَلْنَا جہ مَكَّةَ بِظَهْرِ لَبَّيْنَا بِالْحَجِّ أَى جَعَلْنَا مَكَّةَ مِنْ وَرَائِنَا فِي يَوْمِ التَّرْوِيَةِ حَالَ كَوْنِنَا مُهَلِينَ بِالْحَجِّ ] (فتح الباری جزء صفحه ۲۳) یعنی ہم نے مکہ کو اپنی پیٹھوں کی سمت رکھا؟ موں کی سمت رکھا تھا جبکہ ہم آٹھویں تاریخ کو حج کے لئے لبیک پکار رہے تھے۔ صحابہ کرام آنحضرت کے ارشاد سے احرام کھول چکے تھے۔ آٹھویں تاریخ کو جب مکہ مکرمہ سے حج کے لئے نکلے تو انہوں نے دوبارہ احرام باندھا۔ ابوالز بیر کی روایت امام احمد بن حنبل اور امام مسلم نے موصولاً نقل کی ہے: عَنْ جَابِرٍ قَالَ آمَرَنَا النَّبِيُّ ﷺ لَمَّا أَحْلَلْنَا أَنْ نُّحْرِمَ إِذَا تَوَجَّهْنَا إِلَى مِنِّى قَالَ فَأَهْلَلْنَا مِنَ الْأَبْطَحِ ۔ (مسلم، کتاب الحج، باب بيان وجوه الإحرام) (مسند احمد بن حنبل، جزء ۳ صفحہ ۳۱۸) یعنی حضرت جابر سے مروی ہے کہ جب ہم نے احرام کھول دیئے تو نبی نے ہمیں فرمایا: جب منی کی طرف جائیں تو احرام باندھ لیں۔ انہوں نے کہا: چنانچہ ہم نے انصلح سے احرام باندھے۔