صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 333
صحيح البخاری جلد۳ ٢٥- كتاب الحج امام مالک کی محولہ بالا روایت کی بن یحی تمیمی نیشا پوری نے بھی نقل کی ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں: افْعَلِى كُلَّ مَا يَفْعَلُ الْحَاجُ غَيْرَ اَنْ لَّا تَطُوفِى بِالْبَيْتِ وَلَا تَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ۔اس زیادتی میں صرف سچی ہی اکیلے راوی ہیں۔باقی راویوں نے الفاظ وَلَا تَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ نقل نہیں کئے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحہ ۶۳۷) ( بداية المجتهد، كتاب الحج، القول فى السعى بين الصفا والمروة، في شروطه) ابن ابی شیبہ نے حضرت ابن عمر کی روایت نقل کی ہے : تَقْضِي الْحَائِضُ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا إِلَّا الطَّوَافَ بالبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ۔مصنف ابن ابی شیبه کتاب الحج، باب في الحائض ما تقضى من المناسک، روایت نمبر ۱۴۳۶۴ جزء ۳ صفحه ۲۹۶) یہ روایتیں امام بخاری کے نزدیک مستند نہیں۔باب کی تینوں روایتیں نفس مضمون میں ایک دوسری کی مؤید ہیں۔روایت نمبر ۱۶۵۰ میں صرف بیت اللہ مستقل کیا گیا ہے۔روایت نمبر ۱۶۵ بطور امر واقعہ کے بیان ہوئی ہے کہ حضرت عائشہ نے ظہر کے بعد صرف بیت اللہ کا طواف کیا تھا اور روایت نمبر ۱۶۵۲ میں حائضہ کے عرفات وغیرہ مقامات میں جانے کا ذکر ہے۔وَيَعْتَزِلُ الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى یعنی حائضہ خواتین نماز گاہ یعنی مسجد سے الگ رہیں۔حضرت عائشہ ، حضرت جابر اور حفصہ بنت سیرین متینوں کا نفس موضوع سے اتفاق اپنے اندر جو قوت رکھتا ہے وہ کی اور ابن ابی شیبہ کی روایتوں کو حاصل نہیں۔باب ۸۲ اَلْإِهْلَالُ مِنَ الْبَطْحَاءِ وَغَيْرِهَا لِلْمَكَّيَ وَلِلْحَاجَ إِذَا خَرَجَ إِلَى مِنِّي مکہ کے رہنے والے کا اور اس حاجی کا جو مکہ میں مقیم ہو ، بطحاء وغیرہ سے احرام باندھنا جبکہ وہ منی کو نکلے وَسُئِلَ عَطَاءٌ عَنِ الْمُجَاوِرِ يُلَتِي اور عطاء سے اس شخص کی نسبت پوچھا گیا جو مکہ میں بِالْحَج قَالَ وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ رہتا ہو کیا وہ حج کے لئے لبیک کہے؟ تو انہوں نے کہا: اللَّهُ عَنْهُمَا يُلَتِي يَوْمَ التَّرْوِيَةِ إِذَا صَلَّى حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما آٹھویں ذوالحج کو جب الظُّهْرَ وَاسْتَوَى عَلَى رَاحِلَتِهِ۔وَقَالَ ظہر کی نماز پڑھ چکتے اور اپنی اوٹنی پر سوار ہو کر سید ھے بیٹھ جاتے تو لبیک کہتے اور عبد الملک ( بن ابی سلیمان) رَضِيَ عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ جَابِرٍ نے کہا: عطاء سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت اللهُ عَنْهُ قَدِمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔(انہوں نے کہا: ) اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَحْلَلْنَا حَتَّى يَوْمِ ہم حجۃ الوداع ) میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ التَّرْوِيَةِ وَجَعَلْنَا مَكَّةَ بِظَهْرِ لَبَّيْنَا (مکہ میں ) آئے۔پھر ہم نے آٹھویں تاریخ تک