صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 332
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۳۲ ٢٥- كتاب الحج فَقَالَتْ وَكَانَتْ لَا تَذْكُرُ رَسُوْلَ اللهِ ہم نے ان سے پوچھا۔پھر ( حفصہ نے ) کہا: اور حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَدًا إِلَّا ام عطیہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتیں تو قَالَتْ بِأَبِي فَقُلْنَا أَسَمِعْتِ رَسُوْلَ اللهِ ضروری * یہ کہتیں : میرا باپ آپ پر قربان ! ہم نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ كَذَا پوچھا کہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا ایسا اللہ وَكَذَا قَالَتْ نَعَمْ بِأَبِي فَقَالَ لِتَخْرُج فرماتے سنا تو انہوں نے کہا: ہاں۔میرا باپ آپ پر الْعَوَاتِقُ ذَوَاتُ الْخُدُورِ أَوِ الْعَوَاتِقُ قربان اور آپ نے فرمایا: پردے دار کنواریاں یا وَذَوَاتُ الْخُدُورِ وَالْحُيَّضُ فَيَشْهَدْنَ فرمایا: کنواریاں اور پردے والیاں اور حیض والیاں الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ الْمُسْلِمِيْنَ وَيَعْتَزِلُ بھی باہر نکلیں اور نیک کاموں اور مسلمانوں کی دعا میں الْحُيَّضُ الْمُصَلَّى فَقُلْتُ الْحَائِضُ شریک ہوں اور حیض والیاں نماز گاہ سے الگ رہیں۔فَقَالَتْ أَوَلَيْسَ تَشْهَدُ عَرَفَةَ وَتَشْهَدُ میں نے کہا: حیض والی بھی ؟ تو انہوں نے کہا: تو کیا وہ كَذَا وَتَشْهَدُ كَذَا۔عرفات میں موجود نہیں ہوتیں اور کہا: وہ فلاں جگہ نہیں جاتیں اور فلاں جگہ نہیں جاتیں۔اطرافه ۳٢٤، ۳۵۱، ۹۷۱، ۹۷۹، ۹۸۰، ۹۸۱ تشریح : تَقْضِى الْحَائِضُ الْمَنَاسِكَ كُلها : معونہ دو سکوں میں سے اول الذکر مسلہ سے متعلق روایات میں صراحت موجود ہے کہ بغیر طہارت بیت اللہ کا طواف جائز نہیں۔مگر دوسرے مسئلہ کے بارے میں صراحت نہیں اس لئے عنوانِ باب میں وَإِذَا کہہ کر جواب حذف کر دیا گیا ہے۔روایت نمبر ۶۵۰ میں جو امام مالک سے مروی ہے یہ ذکر ہے کہ حضرت عائشہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ انہوں نے بیت اللہ اور صفاو مروہ کا طواف نہیں کیا تو آپ نے جواب میں صرف بیت اللہ کے طواف کو مستثنی کیا ہے جس سے سعی کے بارے میں جواز کا مسئلہ مستنبط کیا جاسکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ امام بخاری نے اس کے بعد ضمناً بغیر وضو سعی کے جواز کا سوال بھی اُٹھایا ہے۔کیونکہ ائمہ و فقہاء اس امر میں تو متفق ہیں کہ سعی کے لئے حیض سے پاک ہونا ضروری ہے مگر باوضو ہونا ضروری نہیں؛ سوائے حسن بصری کے جن کے نزدیک جس طرح طواف بیت اللہ کے لئے باوضو ہونا شرط ہے۔اسی طرح سعی کے لئے بھی۔( بداية المجتهد، كتاب الحج، القول فى السعى بين الصفا والمروة، في شروطه) لفظ ”ابدا فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ حاشیہ صفحہ ۶۳۷)