صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 331 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 331

صحيح البخاری جلد۳ ۳۳۱ ٢٥-كتاب الحج الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ أَنْ يُخْرُجَ مَعَهَا ابی بکر سے فرمایا کہ وہ ان کے ساتھ تنعیم کی طرف إِلَى التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجَ۔جائیں۔چنانچہ حج کے بعد انہوں نے عمرہ کیا۔اطرافه ۱٥٥٧، ۱۰۶۸، ۱۰۷۰، ۱۷۸۵، ۲۰۰۶، ٤٣٥۲، ٢٣٠، ٧٣٦٧۔١٦٥٢ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ :۱۶۵۲ مول بن ہشام نے ہم سے بیان کیا، کہا:) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ اسماعیل بن علیہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ایوب حَفْصَةَ قَالَتْ كُنَّا نَمْنَعُ عَوَاتِقَنَا أَنْ (سختیانی) سے، ایوب نے حفصہ (بنت سیرین) سے يَخْرُجْنَ فَقَدِمَتِ امْرَأَةٌ فَنَزَلَتْ قَصْرَ روایت کی کہ وہ کہتی تھیں : ہم کنواریوں کو (عید کے دن) بَنِي خَلَفٍ فَحَدَّثَتْ أَنَّ أُخْتَهَا كَانَتْ باہر نکلنے سے منع کیا کرتے تھے۔ایک عورت آئی اور تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ وہ بنی خلف کے محل میں اتری تو اس نے بیان کیا کہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ غَزَا مَعَ اس کی بہن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثِنْتَيْ سے ایک آدمی کی بیوی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عَشْرَةَ غَزْوَةً وَكَانَتْ أُخْتِي مَعَهُ فِي کے ساتھ بارہ جنگوں میں شریک ہو چکے تھے اور میری سِتّ غَزَوَاتٍ قَالَتْ كُنَّا نُدَاوِي بہن چھ جنگوں میں ان کے ساتھ تھی۔وہ کہتی تھیں : ہم الْكَلْمَى وَتَقُوْمُ عَلَى الْمَرْضَى زخمیوں کا علاج معالجہ اور بیماروں کی خدمت کرتے فَسَأَلَتْ أُخْتِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله تھے تو میری بہن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ هَلْ عَلَى إِحْدَانَا پوچھا: کیا اگر ہم میں سے کسی کے پاس جلباتے نہ ہو تو بَأْسٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَّهَا جِلْبَابٌ أَنْ لَّا کوئی ڈر تو نہیں کہ وہ (عید کے لیے ) باہر نہ جائے؟ تَخْرُجَ قَالَ لِتُلْبِسْهَا صَاحِبَتُهَا مِنْ آپ نے فرمایا: اس کی ساتھن اس کو اپنے جلباب جِلْبَابِهَا وَلْتَشْهَدِ الْخَيْرَ وَدَعْوَةَ سے اُڑھائے اور چاہیے کہ وہ نیک کام اور مومنوں کی الْمُؤْمِنِيْنَ فَلَمَّا قَدِمَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ رَضِيَ دعا میں شریک ہو۔جب حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا اللهُ عَنْهَا سَأَلْنَهَا أَوْ قَالَتْ سَأَلْنَاهَا (بصره) آئیں تو انہوں نے ان سے پوچھا یا کہا کہ جلباب : الإِزارُ وَالرِّدَاءُ (النهاية) قَوْبٌ أَوْسَعُ مِنَ الْخِمَارِ (لسان العرب) تبہ بند یا بڑی چادر ( اوڑھنی ) مراد ہے۔