صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 330
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۳۰ ٢٥ - كتاب الحج عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَهَلَّ بتایا ۔ انہوں نے عطاء سے، عطاء نے حضرت جابر النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ بن عبد الله رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: وَأَصْحَابُهُ بِالْحَجِّ وَلَيْسَ مَعَ أَحَدٍ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ نے حج کا احرام باندھا اور سوائے نبی ﷺ اور حضرت طلحہ کے ان میں سے مِنْهُمْ هَدْيٌ غَيْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کسی کے ساتھ بھی قربانی کا جانور نہ تھا اور حضرت علیؓ وَسَلَّمَ وَطَلْحَةَ وَقَدِمَ عَلِيٌّ مِّنَ الْيَمَنِ یمن سے ( مکہ میں ) پہنچے اور ان کے ساتھ قربانی کا وَمَعَهُ هَذِي فَقَالَ أَهْلَلْتُ بِمَا أَهَلَّ بِهِ جانور تھا اور انہوں نے کہا: میں نے اسی کا احرام باندھا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَ النَّبِيُّ ہے جس کا نبی ﷺ نے باندھا ہے۔ صلى الله عليسة۔ صلى الله عروسة۔ اندھا ہے۔ پھر نبی علی نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ أَنْ اپنے صحابہ سے فرمایا کہ حج کو عمرہ کر دیں اور طواف يَجْعَلُوْهَا عُمْرَةً وَيَطُوْفُوْا ثُمَّ يُقَصِّرُوا کریں ۔ اس کے بعد بال کٹوائیں اور احرام کھول وَيَحِلُّوا إِلَّا مَنْ كَانَ مَعَهُ الْهَدْيِ فَقَالُوا ڈالیں ؛ سوائے ان کے جن کے ساتھ قربانی کا جانور تَنْطَلِقُ إِلَى مِنَى وَذَكَرُ أَحَدِنَا يَقْطُرُ ہو۔ آپ کے ساتھ کہنے لگے کہ ہم معنی کو چل پڑیں جبکہ ہم جنبی ہوں ۔ یہ خبر ہی نبی اللہ کو پہنچی تو آپ {مَنِيًّا } فَبَلَغَ {ذَلِكَ } النَّبِيَّ صَلَّى نے فرمایا: اگر مجھے وہ پہلے سے معلوم ہوتا جو مجھے بعد اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ میں معلوم ہوا ہے تو میں اپنے ساتھ قربانی کے جانور نہ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَهْدَيْتُ وَلَوْلَا لاتا اور اگر میرے ساتھ قربانی کا جانور نہ ہوتا تو میں أَنَّ مَعِيَ الْهَدْيَ لَأَحْلَلْتُ۔ وَحَاضَتْ احرام کھول ڈالتا اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَنَسَكَتِ حائضہ ہوئیں تو وہ بھی حج کی ساری عبادتیں بجالائیں الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا غَيْرَ أَنَّهَا لَمْ تَطْفُ سوائے اس کے کہ انہوں نے بیت اللہ کا طواف نہیں بِالْبَيْتِ فَلَمَّا طَهُرَتْ طَاقَتْ بِالْبَيْتِ کیا۔ جب وہ حیض سے فارغ ہو میں تو تو انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا ۔ کہنے لگیں: یا رسول اللہ ! آپ تو قَالَتْ يَا رَسُوْلَ اللهِ تَنْطَلِقُوْنَ بِحَجَّةٍ حج اور عمرہ کر کے چل پڑیں گے اور میں صرف حج وَعُمْرَةٍ وَأَنْطَلِقُ بِحَجِّ فَأَمَرَ عَبْدَ کر کے چلوں گی۔ تو آپ نے حضرت عبد الرحمن بن الفاظ منِيًّا“ اور ”ذَلِكَ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۳ حاشیہ صفحہ ۶۳۶)