صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 328
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۲۸ ٢٥ - كتاب الحج مَا جَاءَ فِي السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ : عنوان باب میں حضرت ابن عمرؓ کا حوالہ سعی تشریح ا ر کر اور حد ا ہے۔ صفا و مروہ کے درمیان نہ نے کی جگہ تھی۔ ہی جسے اب مٹی ڈال کر برابر کر دیا گیا ہے تا حاجیوں کو دوڑنے میں تکلیف نہ ہو۔ پہلے موسم برسات میں پانی کا نالہ بن جاتا تھا۔ محولہ بالا حدوں پر اب نشان نصب کئے گئے ہیں۔ حضرت ابن عمر کی سعی سے متعلق روایت فاکہی اور ابن ابی شیبہ نے نقل کی ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبه کتاب الحج، باب من كان يسعى في بطن المسيل) ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۶۳۴) صفا و مروہ سے متعلق کئی ایک روایتیں مشہور ہیں جو امام بخاری کے نزدیک غیر معتبر ہیں اور اسی لئے عنوانِ باب مَا جَاءَ کے الفاظ سے قائم کیا ہے اور اس باب میں چھ روایتیں نقل کی ہیں جن کا تعلق سعی کے ساتھ ہے۔ روایت نمبر ۱۶۴۴ تا ۱۶۴۷ سے ثابت کرنا مقصود ہے کہ صفا و مروہ میں سعی حج کا ضروری رکن ہے۔ روایت نمبر ۱۶۴۸ سے یہ بتایا گیا ہے کہ صحابہ کی کراہیت کا اصل سبب کیا تھا۔ ان روایتوں کی موجودگی میں روایت ۱۶۴۹ کا مفہوم یہ نہیں ہو سکتا کہ صفا و مروہ کے درمیان دوڑنے کی ابتداء اس لئے ہوئی تھی کہ قوت کا مظاہرہ ہو کیونکہ اس روایت میں بیت اللہ کے طواف کا بھی ذکر ہے۔ بلکہ اس سے مراد صرف یہ ہے کہ اس موقع پر آپ اور آپ کے صحابہ دونوں جگہ تیز دوڑے تھے۔ جیسا کہ اس سے قبل باب ۵۷ میں بھی اس کا ذکر گزر چکا ہے۔ زَادَ الْحُمَيْدِيُّ ۔۔۔۔۔۔ ان روایتوں کے آخر میں بحوالہ حمیدی اس امر کی تصریح کی گئی ہے کہ روایت نمبر ۱۶۴۹ معنعن نہیں بلکہ موصول ہے۔ راوی نے ایک دوسرے سے سن کر روایت بیان کی ہے۔ ان تمام روایتوں سے سعی صفا و مروہ کے واجب ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ روایت نمبر ۱۶۴۷ کے آخری الفاظ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الاحزاب (۲۲) قابل غور ہیں۔ صحابہ کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا قول و فعل قابل اتباع سمجھتے تھے اور یقین رکھتے تھے کہ آپ کی تمام حرکات و سکنات وحی الہی کی تجلی کے ماتحت تھیں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آئینہ کمالات اسلام میں یہ مضمون بسط سے بیان کیا ہے۔ فرماتے ہیں :- آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت صحابہ کا بلا شبہ یہ اعتقاد تھا کہ آنجناب کا کوئی فعل اور کوئی قول وحی کی آمیزش سے خالی نہیں گو وہ وحی مجمل ہو یا مفصل خفی ہو یا جلی ، بین ہو یا مشتبہ بعض اوقات اجتہادی غلطی ہوئی تا اُس سے بھی تکمیل دین ہو اور بعض " بار یک مسائل اُس کے ذریعہ سے پیدا ہوں اور وہ سہو بشریت بھی تمام لوگوں کی طرح سہو نہ تھا بلکہ دراصل ہمرنگ وحی تھا۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص تصرف تھا جو نبی کے وجود پر حاوی ہو کر اُس کو کبھی ایسی طرف مائل کر دیتا تھا جس میں خدا تعالیٰ کے بہت مصالح تھے۔ سو ہم اُس اجتہادی کو بھی وحی سے علیحدہ نہیں سمجھتے ۔ " ( آئینہ کمالات اسلام روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۱۲ تا ۱۱۵)