صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 18 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 18

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۸ ٢٤ - كتاب الزكاة حَقَّهَا تَطَؤُهُ بِأَخْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ روندیں گے اور بکریاں بھی اپنے مالک کے پاس اچھی بِقُرُوْنِهَا وَقَالَ وَمِنْ حَقِهَا أَنْ تُحْلَبَ حالت میں آئیں گی جیسے وہ تھیں ۔ اگر اس نے ان کا وہ عَلَى الْمَاءِ قَالَ وَلَا يَأْتِي أَحَدُكُمْ يَوْمَ حق جو ان سے متعلق ہے نہ دیا ہوگا تو وہ اپنے گھروں سے اس کو روندیں گی اور سینگوں سے ماریں گی۔ آپ نے فرمایا: الْقِيَامَةِ بِشَاةٍ يَحْمِلُهَا عَلَى رَقَبَتِهِ لَهَا يُعَارٌ فَيَقُوْلُ يَا مُحَمَّدُ فَأَقُوْلُ لَا أَمْلِكُ فرمایا: تم میں سے کوئی قیامت کے دن ایسی حالت میں نہ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ وَلَا يَأْتِي بِبَعِيرٍ آئے کہ بکری کو اس نے اپنی گردن پر اٹھایا ہوا ہو اور وہ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ لَهُ رُغَاءٌ فَيَقُولُ يَا بھائیں بھا ئیں کر رہی ہو۔ پھر وہ پکارے: محمد ! میں کہوں بکریوں کا حق یہ بھی ہے کہ پانی پر پہنچ کر انہیں دوہا جائے۔ مُحَمَّدُ فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ گا : میں تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔ میں نے تو ( پیغام بَلَّغْتُ ۔ حق ) پوری طرح پہنچا دیا تھا اور نہ کوئی اپنی گردن پر اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے کہ وہ بڑ بڑ کر رہا ہو اور پھر وہ کہے: محمد ! میں کہوں گا: میں تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔ میں نے تو ( اللہ کا پیغام ) اچھی طرح پہنچا دیا تھا۔ اطرافه: ۲۳۷۸، ۳۰۷۳، ٦٩٥٨۔ ١٤٠٣ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۴۰۳: علی بن عبد اللہ (مدینی ) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ ( کہا :) باشم بن قاسم نے ہم سے بیان کیا۔ (انہوں الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ نے کہا:) عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار نے ہمیں أَبِيْهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ السَّمَانِ عَنْ أَبِي بتایا۔ انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ ابو صالح روغن فروش سے، ابوصالح نے حضرت اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ آتَاهُ اللهُ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کو اللہ تعالیٰ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثْلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نے مال دیا ہو اور وہ اس کی زکوۃ ادا نہ کرے تو شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيْبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ قیامت کے دن (اس کا مال ) اس گنجے سانپ کی شکل الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي شِدْقَيْهِ میں پیش کیا جائے گا جس کی آنکھوں پر اُبھرے ثُمَّ يَقُوْلُ أَنَا مَالُكَ أَنَا كَنْزُكَ ثُمَّ تَلَا : ہوئے داغ ہوتے ہیں۔ وہ قیامت کے دن اس کے