صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 18
صحيح البخاری جلد۳ الْقِيَامَةِ بِشَاةٍ يَحْمِلُهَا عَلَى رَقَبَتِهِ لَهَا يُعَارٌ فَيَقُوْلُ يَا مُحَمَّدُ فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ IA ٢٤ - كتاب الزكاة حَقَّهَا تَطَوُّهُ بِأَطْلَافِهَا وَتَنْطَحُهُ روندیں گے اور بکریاں بھی اپنے مالک کے پاس اچھی بِقُرُوْنِهَا وَقَالَ وَمِنْ حَقِّهَا أَنْ تُحْلَبَ حالت میں آئیں گی جیسے وہ تھیں۔اگر اس نے ان کا وہ عَلَى الْمَاءِ قَالَ وَلَا يَأْتِي أَحَدُكُمْ يَوْمَ حق جو اُن سے متعلق ہے نہ دیا ہوگا تو وہ اپنے گھر وں سے اس کو روندیں گی اور سینگوں سے ماریں گی۔آپ نے فرمایا: بکریوں کا حق یہ بھی ہے کہ پانی پر پہنچ کر انہیں دوہا جائے۔فرمایا: تم میں سے کوئی قیامت کے دن ایسی حالت میں نہ لَكَ شَيْئًا قَدْ بَلَّغْتُ وَلَا يَأْتِي بِبَعِيرٍ آتے کہ بکری کو اس نے اپنی گردن پر اُٹھایا ہوا ہو اور وہ يَحْمِلُهُ عَلَى رَقَبَتِهِ لَهُ رُغَاء فَيَقُولُ یا بھائیں بھا ئیں کر رہی ہو۔پھر وہ پکارے محمد! میں کہوں مُحَمَّدُ فَأَقُولُ لَا أَمْلِكُ لَكَ شَيْئًا قَدْ گا: میں تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔میں نے تو ( پیغامِ حق) پوری طرح پہنچادیا تھا اور نہ کوئی اپنی گردن پر اونٹ کو اٹھائے ہوئے آئے کہ وہ بڑبڑ کر رہا ہو اور پھر وہ کہے: محمد ! میں کہوں گا : میں تمہارے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔میں بَلَّغْتُ۔نے تو ( اللہ کا پیغام ) اچھی طرح پہنچا دیا تھا۔اطرافه ۲۳۷۸، ۳۰۷۳، ٦٩٥۸ ١٤٠٣: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۴۰۳: علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ (کہا: ( ہاشم بن قاسم نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ نے کہا: ) عبدالرحمن بن عبداللہ بن دینار نے ہمیں أَبِيْهِ عَنْ أَبِي صَالِحِ السَّمَّانِ عَنْ أَبِي بتایا۔انہوں نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ ابوصالح روغن فروش سے، ابوصالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ آتَاهُ اللهُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس کو اللہ تعالیٰ مَالًا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهُ مُثْلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نے مال دیا ہو اور وہ اس کی زکوۃ ادا نہ کرے تو شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيْبَتَانِ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ قیامت کے دن (اس کا مال ) اس گنجے سانپ کی شکل الْقِيَامَةِ ثُمَّ يَأْخُذُ بِلِهْزِمَتَيْهِ يَعْنِي شِدْقَيْهِ میں پیش کیا جائے گا جس کی آنکھوں پر اُبھرے ثُمَّ يَقُوْلُ أَنَا مَالُكَ أَنَا كَنْزُكَ ثُمَّ تَلَا : ہوئے داغ ہوتے ہیں۔وہ قیامت کے دن اس کے