صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 324
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۲۴ ٢٥-كتاب الحج کثیر التعداد ہدایا کے ساتھ لوٹے۔جن میں ایک امیر زادی حضرت ہاجرہ علیہا السلام بھی تھیں۔حضرت ہاجرہ لونڈی نہ تھیں بلکہ آزاد شہزادی تھیں جنہوں نے بعد میں اپنے بیٹے حضرت اسماعیل سمیت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اعلیٰ مقاصد کی تکمیل میں پوری موافقت کا نمونہ دکھایا۔حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی اس ہجرت گاہ کا یہ ایک تاریخی پس منظر ہے اور دوسری شہادت خالص روحانی ہے کہ ایک عورت اپنے دنیاوی سہارے یعنی خاوند سے الگ ہو کر بے آب و گیاہ سنگلاخ پہاڑیوں کی کڑی آزمائش میں اِذَا لَّا يُضَيعُ کہتے ہوئے اپنے آپ اور اپنے بیٹے کو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے سپرد کرتی ہے۔توحید و توکل کا یہ قابل رشک نمونہ ایک طرف اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا الہی منشاء پورا کرنے کی غرض سے ایک دوسرا مرکز تو حید قائم کرنا اور اس میں ان کے بیوی بیٹے کا پوری موافقت کرنا دوسری طرف اور اس تعلق میں حضرت ابراہیم الکلی کی یہ دعا کہ رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ (ابراهیم : ۳۸) اے ہمارے رب ! یقینا میں نے اپنی اولاد میں سے بعض کو ایک بے آب و گیاہ وادی میں تیرے معزز گھر کے پاس آباد کر دیا ہے۔اے ہمارے رب تا کہ وہ نماز قائم کریں اور اس دعا کی خارق عادت قبولیت کا عظیم الشان نشان صفا اور مروہ کی پہاڑیوں میں بطور شعائر اللہ قائم ہونا یہ سب باتیں نشان الوہیت پر نہ مٹنے والی شہادتیں ہیں۔جن کی وجہ سے ان جگہوں کو وہ عظمت حاصل ہے جن کا ہم آج تک مشاہدہ کر رہے ہیں۔حضرت ہاجرہ کا بے کسی اور بے بسی کے عالم میں اپنے بچے کے لئے پانی کی تلاش میں بے قرار ادھر ادھر دوڑنا جیسا کہ روایات متواترہ سے پایا جاتا ہے؛ ان کی یہ سعی بھی راہ سلوک میں پہلے مرحلے کی ایک علامت ہے جو درحقیقت ان کے لئے نہایت ہی کڑی اور تلی آزمائش کی گھڑی تھی۔جس میں ایمان صادق کے بغیر انسان ثابت قدم نہیں رہ سکتا۔ایسی ہی کڑی آزمائش پر وہ خارق عادت شان الوہیت ظاہر ہوتی ہے جو حضرت ہاجرہ علیہا السلام پر بھی ظاہر ہوئی۔مسبب الاسباب خدائے قیوم و قادر نے بے کس ہاجرہ کے لئے آخر اسی بے آب و گیاه بنجر کو سرسبز و شاداب کر دیا اور پھر دادی مکہ کا ویرانہ حیرت انگیز طور پر سارے جہاں کے لئے تو حید اور ہدایت کا مرکز قرار پایا۔غرض شانِ الوہیت کا مشاہدہ کرنے کے لئے ہر انسان کو پہلے ایک ہاجرہ بنا پڑتا ہے اور ضروری ہے کہ مقام عرفان حاصل کرنے کے لئے وہ پہلے ترک اسباب کی کڑی آزمائش میں اپنے آپ کو ڈالے۔یہی سنت الہیہ ہے جو ہمیشہ سے جاری ہے۔یہ وہ چقماق کا پتھر ہے جس سے ابتلاؤں کی رگڑ پوشیدہ نور کو آشکار کر کے شان الوہیت کی جلوہ نمائی کرتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کلمہ لا الہ الا اللہ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اسباب پر توکل کرنا بھی ایک بت ہے مگر یہ ایک بار یک بت ہے۔جیسا کہ عالم جسمانی میں بعض بیماریاں باریک ہوتی ہیں۔ان بتوں سے بچنا بڑے بہادر آدمی کا کام ہے۔جولوگ ان بتوں کے پیچھے لگتے ہیں وہ حد سے زیادہ اسباب پر زور مارتے ہیں اور ان کا۔۔۔۔۔تمام بھروسہ ان اسباب ہی پر ہوتا ہے۔جب تک ان باتوں کا قلع قمع نہ کیا جاوے، تو حید قائم نہیں ہو سکتی۔“ (تقریر حضرت مسیح موعود ۲۶ دسمبر ۱۹۰۶ ء۔دیکھئے البدرہ جنوری ۱۹۰۷ صفحہ۱) (The Jewish Encyclopedia, under word: Hagar, In Rebbinical Literature)