صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 325 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 325

صحيح البخاری جلد ۳ ۳۲۵ ٢٥ - كتاب الحج بَاب ۸۰ : مَا جَاءَ فِي السَّعْيِ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ صفا اور مروہ کے درمیان دوڑنے کی نسبت جو روایتیں آئی ہیں وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اور ( حضرت عبداللہ ) بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ السَّعْيُ مِنْ دَارِ بَنِي عَبَّادٍ إِلَى زُفَاقِ سعی بنو عباد کے گھر سے لے کر بنوا بوحسین کے کوچہ بَنِي أَبِي حُسَيْنٍ۔ تک ہے۔ ١٦٤٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ ۱۶۴۴ محمد بن عبید بن میمون نے ہم سے بیان کیا، مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ عَنْ (کہا: ) عیسیٰ بن یونس نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عبید اللہ بن عمر سے، عبید اللہ نے نافع سے، نافع نے عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ رَسُولُ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ انہوں اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَافَ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب پہلا طواف الطَّوَافَ الْأَوَّلَ حَبَّ ثَلَاثًا وَمَشَى کرتے تو آپ تین بار دوڑ کر چلتے اور چار بار حسب معمول چلتے اور جب صفا و مروہ کے درمیان چکر أَرْبَعًا وَكَانَ يَسْعَى بَطْنَ الْمَسِيْلِ إِذَا لگاتے تو نالہ کی نشیب میں دوڑتے۔ (عبید اللہ کہتے تھے :) طَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقُلْتُ میں نے نافع سے پوچھا کہ حضرت عبداللہ بن عمر ) لِنَافِعِ أَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَمْشِي إِذَا بَلَغَ جب رکن یمانی کے پاس پہنچتے تو کیا وہ حسب معمول الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ قَالَ لَا إِلَّا أَنْ يُزَاحَمَ چلتے ؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ سوا اس کے کہ حجر اسود عَلَى الرُّكْنِ فَإِنَّهُ كَانَ لَا يَدَعُهُ حَتَّى کے پاس ہجوم کی وجہ سے انہیں رکاوٹ ہوتی کیونکہ يَسْتَلِمَهُ ۔ اطرافه: ١٦٠٣، ١٦٠٤ ، 1616، 1617۔ جب تک وہ اس کو نہ چھو لیتے اسے نہ چھوڑتے۔ ١٦٤٥ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ ۱۶۴۵: علی بن عبداللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ کیا ، کہا: سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں سَأَلْنَا ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ نے عمرو بن دینار سے روایت کی ۔ انہوں نے کہا: ہم