صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 323 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 323

صحيح البخاری جلد۳ ۳۲۳ ٢٥- كتاب الحج الْجَاهِلِيَّةِ بالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَالَّذِيْنَ ان کے متعلق بھی جو جاہلیت میں صفا و مروہ کا طواف يَطُوْفُوْنَ ثُمَّ تَحَرَّجُوْا أَنْ يَطُوْفُوْا بِهِمَا کرنا گناہ سمجھتے تھے اور ان لوگوں سے متعلق بھی جو طواف فِي الإِسْلَامِ مِنْ أَجْلِ أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَمَرَ کرتے تھے۔پھر اسلام میں ان کا طواف گناہ سمجھنے لگے۔بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ وَلَمْ يَذْكُرِ الصَّفَا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے طواف کا حکم دیا اور صفا حَتَّى ذَكَرَ ذَلِكَ بَعْدَ مَا ذَكَرَ الطَّوَافَ کا ذکر نہیں کیا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ کے بِالْبَيْتِ۔اطرافه ١۷۹۰، ٤٤٩٥، ٤٨٦١ تشریح: طواف کا ذکر فرما کر صفا و مروہ کے طواف کا بھی ذکر کر دیا۔وُجُوبُ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ : صفا و مروہ اس سلسلہ کو وہ صفا کی دو چوٹیاں ہیں جو مکہ مکرمہ کی شمال مشرقی جہت میں واقع ہیں۔جن کی نسبت مشہور ہے کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ حضرت ہاجرہ علیہا السلام پانی کی تلاش میں کبھی اس چوٹی پر آئیں کبھی اس چوٹی پر اور چاروں طرف نظر دوڑا تھیں کہ کہیں پانی کا نشان ملے۔صفا جمع ہے صفاۃ کی، جس کے معنی ہیں صاف چٹان (لسان العرب، صفا) صفابیت اللہ کے جنوب مشرق کی جانب واقع ہے۔مروہ شمال مشرقی جانب۔یہ دونوں پہاڑیاں شعائر اللہ قرار دی گئی ہیں۔شعائر جمع ہے شعیرہ یا شعارہ کی، جس کے لغوی معنی علامت کے ہیں۔(لسان العرب، شعر ) شَعَائِرُ الله اصطلاح شریعت میں شعیرہ ہر وہ شئے ہے جو شانِ الوہیت کے لئے بطور نشان سمجھی جائے اور صفات باری تعالیٰ کی نشان دہی کرے۔اسے دیکھ کر یہ معلوم ہو کہ کس طرح اللہ تعالیٰ انسان کی عبودیت پر اپنی شانِ الوہیت کی خارق عادت تجلی فرماتا ہے۔حج کے مناسک یعنی ایسی عبادتیں جن کا تعلق حضرت ابراہیم، حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کی عظیم الشان قربانیوں سے ہے وہ سب مذکورہ بالا معنے میں شعائر اللہ ہیں۔مناسک جمع ہے منسک کی جو نسک سے مشتق ہے۔نسک کے معنی قربانی کے ہیں۔قربانی کے دنبے، اونٹ اور دیگر مویشی بھی شعائر اللہ کہلاتے ہیں۔(الحج:۳۷) کیونکہ وہ حضرت ابراہیم کی قربانی اور اللہ تعالیٰ کی قبولیت کا ابدی نشان ہیں۔صفا اور مروہ کی شہادت یعنی گواہی دو قسم کی ہے۔ایک تاریخی اور دوسری روحانی۔تاریخی شہادت یہ ہے کہ مقام اور سے ہجرت کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک مرکز تو حید کنعان میں قائم کیا اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک مرکز وادی مکہ میں قائم کرنا ان کے پیش نظر تھا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حیثیت کنعان، مصر اور ان کے درمیانی علاقوں اور مضافات میں اقتصادی، تمدنی، سیاسی اور مذہبی لحاظ سے بہت اہمیت حاصل کر چکی تھی۔اس اہمیت کا علم پیدائش باب ۱۳ ۱۴ کے مطالعہ سے بھی ہو سکتا ہے جن میں ان کے مال و دولت کی کثرت اور ان کی جنگوں کا ذکر ہے جو مضافات کے جابر ظالموں سے ہوئیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام نے انہیں شکست فاش دی اور اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کو ان کی قید سے آزادی دلا کر انہیں بھی مضبوط کیا اور ان تعلقات سے بھی ظاہر ہے جو ان کے حکام مصر سے قائم ہوئے۔یہاں تک کہ وہ وہاں سے