صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 320 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 320

صحيح البخاری جلد۳ الرُّكْنَ حَلُّوْا۔اطرافه: ١٦١٥، ١٧٩٦۔تشریح: ۳۲۰ ٢٥ - كتاب الحج حجر اسود کا مسح کیا تو اس وقت انہوں نے احرام کھولا۔اَلطَّوَافُ عَلَى وُضُوءٍ : جمہور کا یہی مذہب ہے کہ طواف کے لئے وضو کرنا ایسا ہی ضروری ہے جیسا نماز کے لئے اور ان کا استدلال نہ صرف مذکورہ بالا روایت ہی سے ہے بلکہ اس روایت سے بھی جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اسماء بنت عمیس کے متعلق فرمایا: تَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ النَّاسُ إِلَّا أَنَّهَا لَا تَطُوفَ بِالْبَيْتِ۔ابن ماجه، كتاب المناسک، باب النفساء والحائض تهل بالحج) یعنی جو باتیں حاجی کرتے ہیں وہ کر ولیکن بیت اللہ کا طواف نہ کرو۔روایت نمبر ۲۵۰ از سر باب ۸۱ میں بھی یہی ہے جس میں حضرت عائشہ کو آپ نے فرمایا: غَيْرَ أَنْ لَّا تَطْوَفِي بِالْبَيْتِ حَتَّى تَطْهُرِى۔فقہاء کو نہ نے جن میں امام ابو حنیفہ بھی ہیں طواف کے لئے وضو کو سنت مؤکدہ تو قرار دیا ہے مگر ضروری شرط نہیں کہا کہ جس کے بغیر طواف جائز نہ ہو۔ان کے نزدیک ہر عبادت کے لئے جس میں حیض سے طہارت حاصل ہونا ضروری ہے؛ یہ ضروری نہیں کہ اس حدیث سے طہارت بھی ضروری ہو۔مثلاً حائضہ روزہ نہیں رکھ سکتی مگر روزہ بغیر وضو کے ہو سکتا ہے۔امام مالک وامام شافعی کے راستے میں بغیر وضو طواف نہ عمداً جائز ہے نہ ہوا۔الطَّوَافَ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ کی بنا پر ان کے نزدیک طواف بھی نماز کی طرح عبادت ہے جس کے لئے طہارت ضروری ہے مگر یہ روایت امام بخاری کے نزدیک مستند نہیں۔اس ضمن میں تشریح باب نمبر سے بھی ملاحظہ ہو۔چونکہ محولہ بالا روایت سے صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے وضو کیا جس کے متعلق یہ احتمال بھی ہے کہ یہ وضو دوگانہ طواف (یعنی طواف کی دورکعتوں) کے لئے ہو۔اس لئے امام بخاری نے باب کا عنوان مصدر یہ رکھ کر اس مسئلہ کو مطلق گردانا ہے اور اس بارہ میں کوئی فیصلہ بالجزم نہیں کیا۔چونکہ یہ آنحضرت ﷺ کا عمل ہے جس کے وجوب یا عدم وجوب کے لئے آپ کی طرف سے کوئی تصریح نہیں۔اس لئے مقام ادب کا تقاضا ہے کہ آپ کی اقتداء کی جائے۔خصوصاً جبکہ آنحضرت نے طواف کرنے اور دوگانہ پڑھنے کے بعد فرمایا: خُذُوا (عَنِی مَنَاسِكَكُمْ کے یعنی عبادت حج کے طریق مجھ سے سیکھو۔(دیکھئے روایات باب ۷۷) ایسے مسائل کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الأحزاب: (۲۲) یعنی رسول الله علیہ تمہارے لئے بہتر رہنما ہیں۔جملہ الطَّوَافُ عَلَى وُضُوءٍ کی نحوی ترکیب کا بھی یہی منشاء ہے۔اس تعلق میں اگلے باب کی تشریح بھی ملاحظہ ہو۔فقہاء کے اختلاف کی وضاحت کے لیے دیکھئے: بداية المجتهد، كتاب الحج، القول في الطواف بالبيت في شروطه، جواز الطواف بغير طهارة۔(ترمذى، كتاب الحج، باب ما جاء في الكلام في الطواف) (دارمی) کتاب المناسک، باب الكلام في الطواف) (مسلم، کتاب الحج، باب استحباب رمی جمرة العقبة يوم النحر (ابو داؤد، کتاب المناسک، باب فی رمي الجمار (نسائی، کتاب مناسك الحج، باب الركوب الى الجمار واستظلال المحرم)