صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 318 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 318

صحيح البخاری جلد ۳ ۳۱۸ ٢٥ - كتاب الحج تشریح : طَوَافُ الْقَارِنِ : قرآن میں طواف کرنے کے بارے میں فقہاء کے اختلاف کا ذکر باب کی تشریح میں دیکھا جائے ۔ اس بارے میں امام بخاری کا فیصلہ روایات مندرجہ بالا کے پیش نظر یہی معلوم ہوتا ہے کہ صرف ایک طواف کیا جائے۔ بصورت افراد عمرہ اور حج کا الگ الگ طواف ہوتا ہے۔ اسی رائے کی تائید میں محولہ بالا تین روایتیں منقول ہیں۔ ان میں حضرت عائشہ کی روایت کا تعلق حجۃ الوداع سے ہے اور حضرت عبداللہ بن عمر کے حج کا واقعہ اس سال ہوا جس میں حجاج نے حضرت عبداللہ بن زبیر پر چڑھائی کی تھی۔ اس واقعہ سے متعلق دو روایتیں نمبر ۱۶۳۹، ۶۴۰ مختلف سندوں سے نقل کی ہیں۔ پہلی میں فَطَافَ لَهُما طَوَافًا وَاحِدًا ہے۔ جس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ عمرہ اور حج میں سے ہر ایک کے لئے ایک ایک طواف کیا۔ دوسری روایت سے شبہ کا ازالہ کیا گیا ہے۔ اس میں یہ الفاظ ہیں: وَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجَّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الأَوَّلِ۔ روایت نمبر ۱۶۴۰ کی مزید وضاحت کے لیے باب نمبر ۱۰۵ و ۱۱۴ دیکھئے۔ باب ۷۸ : الطَّوَافُ عَلَى وُضُوْءٍ با وضو طواف کرنا ١٦٤١ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ۱۶۴۱: احمد بن عیسی نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو ( عبد الله ) ابن وہب نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں ابْنُ الْحَارِثِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ نے کہا کہ عمرو بن حارث نے مجھے بتایا کہ محمد بن الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلِ الْقُرَشِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ عبد الرحمن بن نوفل قریشی سے مروی ہے کہ انہوں نے عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ فَقَالَ قَدْ حَجَّ النَّبِيُّ عروہ بن زبیر سے پوچھا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَتْنِي علیہ وسلم نے بھی حج کیا اور حضرت عائشہ رض مائشہ رضی الله عنها نے مجھے بتایا کہ جب آپ (مکہ میں ) آئے تو سب عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ أَوَّلَ شَيْءٍ سے پہلی بات جس سے آپ نے حج شروع کیا وہ یہ بَدَأَ بِهِ حِيْنَ قَدِمَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثُمَّ طَافَ تھی کہ آپ نے وضو کیا۔ پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ تَكُنْ عُمْرَةً ثُمَّ حَجَّ آپ کا حج عمرہ نہیں ہوا۔ پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَكَانَ أَوَّلَ نے حج کیا اور بیت اللہ کا طواف پہلا کام تھا جس سے شَيْءٍ بَدَأَ بِهِ الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ ثُمَّ لَمْ انہوں نے حج شروع کیا اور ان کا حج عمرہ نہیں ہوا۔ تَكُنْ عُمْرَةً ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا۔