صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 317 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 317

صحيح البخاری جلد ۳ ۳۱۷ ٢٥-كتاب الحج درمیان لڑائی ہونے والی ہے اور ہم ڈرتے ہیں کہ وہ ١٦٤٠ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ :۱۶۴۰ قتيه ( بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا، عَنْ نَّافِعٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ) کہا : ) لیث نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع سے أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْن روایت کی۔جس سال حجاج نے (حضرت عبداللہ ) الزُّبَيْرِ فَقِيْلَ لَهُ إِنَّ النَّاسَ كَائِنَّ بَيْنَهُمْ بن زبیر پر حملہ کیا اس سال حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا ارادہ کیا تو ان سے کہا گیا کہ لوگوں کے قِتَالٌ وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ فَقَالَ لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ آپ کو روک دیں گے۔انہوں نے جواب دیا: (لَقَدُ حَسَنَةٌ إِذَا أَصْنَعَ كَمَا صَنَعَ رَسُوْلُ اللهِ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ) تب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي أُشْهِدُكُمْ میں ایسے ہی کروں گا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أَنِّي قَدْ أَوْ جَبْتُ عُمْرَةً ثُمَّ خَرَجَ حَتَّی نے کیا تھا۔میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے عمرہ إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ قَالَ مَا شَأْنُ کو واجب کر لیا ہے۔پھر وہ نکلے یہاں تک کہ جب الْحَج وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ أُشْهِدُكُمْ بيداء کے کھلے میدان میں پہنچے تو انہوں نے کہا: حج اور عمرہ کی بات ایک ہی ہے۔میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں۔میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی واجب کر لیا ہے اور انہوں نے قربانی کا جانور بھی اپنے أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَبًّا مَعَ عُمْرَتِي وَأَهْدَى هَدْيَا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ فَلَمْ يَنْحَرْ وَلَمْ يَحِلَّ مِنْ ساتھ ) لیا؛ جس کو ( مقام ) قدید میں خریدا تھا اور اس شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَلَمْ يَحْلِقُ وَلَمْ يُقَصِرْ سے زیادہ کوئی کام نہیں کیا۔نہ قربانی ذبح کی اور نہ کوئی حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَنَحَرَ وَخَلَقَ اور بات جو احرام میں منع ہے۔نہ سرمنڈ وایا، نہ بال وَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجّ کٹوائے۔یہاں تک کہ قربانی کا دن ہوا تو آپ نے وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ وَقَالَ ابْنُ ذبح کیا اور سرمنڈوایا اور سمجھے کہ پہلے ہی طواف میں عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَذَلِكَ فَعَلَ حج اور عمرہ (دونوں) کا ہی طواف کر چکے ہیں اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔علیہ وسلم نے بھی ایسا ہی کیا تھا۔اطرافه ١٦٣٩، ۱٦۹۳، ۱۷۰۸، ۱۸۰٦، ۱۸۰۷، ۱۸۰۸، ۱۸۱۰، ۱۸۱۲، ۱۸۱۳، ٤۱۸۳، ٤١٨٤، ٤١٨٥۔