صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 17
صحيح البخاری جلد ۳ ۱۷ ٢٤ - كتاب الزكاة میں بھی اور آخرت میں بھی۔عنوان باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تو بہ تب ہی صحیح ہوتی ہے جب دونوں ارکان یعنی نماز و زکوۃ کی پابندی کی جائے۔حضرت جریر بن عبداللہ بجلی کی روایت اس سے قبل کتاب الایمان زیر باب ۴۲ روایت نمبر ۵۷ میں گزر چکی ہے۔بَاب ٣ : إِثْمُ مَانِعَ الزَّكَاةِ زکوۃ نہ دینے والے کا گناہ وَقَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى: وَالَّذِيْنَ يَكْنِزُونَ اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جوسونا اور چاندی اکٹھا کر کے الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلَا يُنْفِقُونَهَا فِي چھپارکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں انہیں خرچ نہیں کرتے سَبِيْلِ اللهِ فَبَشِّرُهُمْ بِعَذَابِ اَلِيْهِ تو انہیں درد ناک عذاب کی خوشخبری دیدے۔جس دن جہنم کی آگ اُس (سونے چاندی) پر بھڑکائی جائے گی۔پھر اس سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور اُن کی پیٹھیں داغی جائیں گی۔(تو کہا جائے گا ) یہ ہے هذَا مَا كَنَزَتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوقُوا جو تم نے اپنی جانوں کے لیے جمع کیا تھا۔سو اس کا مزا دا يَوْمَ يُحْيِي عَلَيْهَا فِي نَارِ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُهُمْ مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ (التوبة: ٣٤ - (٣٥) چکھو جو تم اکٹھا کر کے چھپارکھتے تھے۔١٤٠٢: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ ۱۴۰۲: ( ابوالیمان) حکم بن نافع نے ہم سے بیان أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزَّنَادِ أَنَّ کیا، کہا: ) شعیب ( بن ابی حمزہ ) نے ہمیں بتایا۔عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ الْأَعْرَجَ حَدَّثَهُ (انہوں نے کہا: ) ابوالزناد نے ہم سے بیان کیا کہ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عبد الرحمن بن ہرمز اعرج نے اسے بتایا کہ انہوں نے يَقُوْلُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ تَأْتِي الْإِبِلُ عَلَى صَاحِبِهَا عَلَى خَيْرِ مَا نبي صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (قیامت کے دن) كَانَتْ إِذَا هُوَ لَمْ يُعْطِ فِيْهَا حَقَّهَا تَطَؤُهُ اونٹ اپنے مالک کے پاس اچھی حالت میں آئیں بِأَخْفَافِهَا وَتَأْتِي الْغَنَمُ عَلَى صَاحِبِهَا گے ، جیسے وہ تھے تو اگر اس نے ان کا وہ حق جو اُن سے عَلَى خَيْرٍ مَا كَانَتْ إِذَا لَمْ يُعْطِ فِيْهَا متعلق ہے نہ دیا ہوگا تو وہ اس کو اپنے پاؤں سے