صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 314 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 314

صحيح البخاری جلد ۳ ۳۱۴ ٢٥ - كتاب الحج ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِي فَعَرَجَ { بِي } إِلَى بھرا ہوا تھا اور اس کو میرے سینے میں انڈیل دیا۔پھر السَّمَاءِ الدُّنْيَا قَالَ جِبْرِيلُ لِخَازِنِ اس کو جوڑ دیا۔پھر انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور السَّمَاءِ الدُّنْيَا افْتَحْ قَالَ مَنْ هَذَا قَالَ { مجھے ) دور لے آسمان کی طرف لے گئے۔جبرائیل نے والے آسمان کے داروغہ سے کہا: کھولو۔اس نے جِبْرِيلُ۔اطرافه: ٣٤٩ ٣٣٤٢ عن پوچھا: یہ کون؟ بولے: جبرائیل۔١٦٣٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ :۱۶۳۷ محمد جو سلام کے بیٹے ہیں ؛ نے ہم سے بیان سَلَامٍ أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ عَنْ عَاصِمٍ۔کیا، کہا: مروان بن معاویہ ) فزاری نے ہمیں بتایا۔الشَّعْبِي أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ الله انہوں نے عاصم (احول) سے، عاصم نے شعبی سے عَنْهُمَا حَدَّثَهُ قَالَ سَقَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا، کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو زمزم سے پانی پلایا اور آپ نے پانی پیا اور آپ کھڑے ہی تھے۔عاصم نے کہا: (میں نے عکرمہ سے یہ ذکر کیا ) تو عِكْرِمَةُ مَا كَانَ يَوْمَئِذٍ إِلَّا عَلَى بَعِيرٍ عکرمہ نے قسم کھا کر کہا: اس دن آپ اونٹ پر تھے۔صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ زَمْزَمَ فَشَرِبَ وَهُوَ قَائِمٌ۔قَالَ عَاصِمٌ فَحَلَفَ اطرافه: ٥٦١٧۔تشریح مَا جَاءَ فِي زَمْزَمَ : جس طرح حجر اسود سے متعلق بے بنیادر وایتیں مشہور تھیں۔اسی طرح زمزم : کے متعلق بھی۔جو امام بخاری نے غیر مستند ہونے کی وجہ سے قبول نہیں کیں اور باب کا عنوان ما جاء۔۔۔مبہم الفاظ سے قائم کیا ہے۔روایت نمبر ۱۶۳۶ کتاب الصلوۃ بابا میں مفصل گزرچکی ہے۔یہ کشف ہے جس کی تعبیر بعد کے واقعات سے اظہر من الشمس ہے۔غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ : زمزم کے لغوی معنی کثرت کے ہیں۔(لسان العرب باب الزاء، تحت لفظ زم) مَاءِ زَمْزَمَ یعنی بہت پانی۔آب زمزم سے دھونا کامل تزکیہ نفس پر دلالت کرتا ہے۔چونکہ اس واقعہ کشف سے زمزم کی بابت کسی قسم کی فضیلت کا استدلال نہیں ہو سکتا۔اس لئے اسے عنوانِ باب میں ہی مختصراً بطور حوالہ نقل کیا ہے۔دوسری روایت باب ۷۵ میں گزر چکی ہے (دیکھئے روایت نمبر ۱۶۳۵) اس میں تصریح نہیں کہ آپ اس وقت اونٹ پر سوار تھے۔قَالَ عَاصِمٌ فَحَلَفَ عِكْرِمَةُ : ابن ماجہ نے بھی یہی روایت نقل کی ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں: قَالَ لفظ بھی فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ حاشیہ صفحہ۶۲۲) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔