صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 313
صحيح البخاری جلد۳ ٣٣١٣ ٢٥- كتاب الحج فَاتِ رَسُولَ اللهِ الله بِشَرَابِ مِنْ عِنْدِهَا: آخری روایت میں حضرت عباس نے اپنے بیٹے فضل کو جو شربت لانے کے لئے کہا تھاوہ شربت منتقی تھا۔عربی زبان میں پینے کی شئے کو شراب کہتے ہیں۔صحیح مسلم میں ابوبکر بن عبداللہ مزنی سے مروی ہے کہ وہ حضرت ابن عباس کے ساتھ بیٹھے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور آپ کے پیچھے حضرت اسامہ تھے۔آپ نے پینے کے لئے پانی مانگا تو ہم نبیذ کا برتن لائے۔جس سے آپ نے کچھ پیا اور باقی حضرت اسامہ کو دیا اور فرمایا: اَحْسَنتُمْ وَأَجْمَلْتُمْ كَذَا فَاصْنَعُوا۔(مسلم، كتاب الحج، باب وجوب المبيت بمنى ليالى ايام التشريق والترخيص فی (ترکه یعنی تم نے یہ بہت اچھا اور عمدہ کیا ہے۔پس تم ایسا ہی کیا کرو۔نبیذ عربی میں منقیٰ کے شربت کو کہتے ہیں۔طبرانی نے بحوالہ مکرمہ نقل کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پانی طلب کرنے پر حضرت عباس نے کہا : اِنْ هَذَا قَدْ مَرِثَ أَفَلَا أَسْقِيْكَ مِنْ بُيُوتِنَا قَالَ لَا وَلَكِنِ اسْقِنِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ۔فتح البارى جزء ۳۰ صفحه ۶۲۱) یعنی ہاتھ سے مل کر یہ نقوع تیار کیا ہے۔کیا اپنے گھروں سے لا کر آپ کو نہ پلاؤں۔فرمایا: ضرورت نہیں۔یہی پلاؤ جس سے لوگ پیتے ہیں۔طبرانی کی یہ روایت نمبر ۱۶۳۵ کے مطابق ہے۔اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاکیزہ اخلاق کا پتہ چلتا ہے کہ آپ نے اپنے لئے کسی امتیاز کو پسند نہیں کیا۔بَابِ ٧٦ : مَا جَاءَ فِي زَمْزَمَ جو روایتیں زمزم کے متعلق آئی ہیں ١٦٣٦ : وَقَالَ عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ :۱۶۳۶ اور عبدان نے کہا : عبد اللہ بن مبارک ) اللَّهِ أَخْبَرَنَا يُونُسُ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ نے ہمیں بتایا، (کہا: ) یونس نے ہمیں بتایا۔انہوں أَنَسِ بْنِ مَالِكِ كَانَ أَبُو ذَرٍ رَضِيَ الله نے زہری سے روایت کی کہ حضرت انس بن مالک عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله سے مروی ہے کہ حضرت ابوذر ( غفاری ) رضی اللہ عنہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فُرجَ سَقْفِي وَأَنَا بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بِمَكَّةَ فَنَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فرمایا: میری چھت کھولی گئی اور اس وقت میں مکہ میں فَفَرَجَ صَدْرِي ثُمَّ غَسَلَهُ بِمَاءِ زَمْزَمَ ثُمَّ تھا۔جبرائیل علیہ السلام اُترے۔انہوں نے میرا سینہ جَاءَ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُمْتَلِئُ حِكْمَةً شقّ کیا۔پھر اس کو زمزم کے پانی سے دھویا۔پھر وَإِيْمَانًا فَأَفْرَغَهَا فِي صَدْرِي ثُمَّ أَطْبَقَهُ سونے کا ایک طشت لائے جو حکمت اور ایمان سے