صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 312
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۱۲ ٢٥ - كتاب الحج حجابہ یعنی دربانی کی خدمت کا ذکر باب نمبر ۱ ۵ میں گزر چکا ہے۔ دوسری خدمت سقایہ یعنی پانی پلانا ہے۔ جب قصی بن کلاب امیر مکہ تھے تو دربانی علم برداری ، میزبانی، آب رسانی اور شوری کی خدمت کے وہی متولی ہوئے۔ ان کے بعد ان کی اولاد نے ان کو آپس میں تقسیم کر لیا۔ عبد مناف میزبانی اور آب رسانی کی خدمت کے متولی تھے اور باقی خدمتیں ان کے دو بھائیوں کو ملیں۔ عبد مناف چھا گلوں اور مشکیزوں کے ذریعہ سے پانی لاکر چمڑے کے حوضوں کو بھر دیتے اور اس میں منقیٰ بھی ڈال دیا جاتا جس سے شربت تیار ہو جاتا اور حاجی بلا تکلف پیتے ۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۶۲۰ ) عطاء بن ابی رباح سے مروی ہے کہ انہوں نے بھی یہ شربت پیا جو شربت شیریں تھا۔ (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۲۷۶) اس کے بعد ان کے بیٹے ہاشم اور پوتے عبدالمطلب اور پڑپوتے حضرت عباس پانی پلانے کی خدمت بجالائے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے نیک کام قرار دیا ( روایت نمبر ۱۶۳۵) اور حضرت عباس کو اسے جاری رکھنے کی اجازت دی۔ (روایت نمبر ۱۶۳۴) مکہ معظمہ کی سنگلاخ زمین میں پانی پلانے کی خدمت اہم اور بڑا ثواب سمجھا جاتا تھا۔ قرآن مجید نے بھی اس کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا ہے: أَجَعَلْتُمْ سِقَايَةَ الْحَاجٌ وَعِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَجَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَوْنَ عِنْدَ اللَّهِ وَاللَّهُ لَا لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ (التوبة: 19) (یعنی کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کی دیکھ بھال کرنا ایسا ہی سمجھ رکھا ہے جیسے کوئی اللہ پر ایمان لے آئے اور آخرت کے دن پر بھی اور اللہ کی راہ میں جہاد کرے۔ وہ اللہ کے نزدیک ہرگز برابر شمار نہیں ہو سکتے ۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔ } بے شک یہ نیکی تو ہے مگر ایمان بالله و بالآخرہ کے برابر نہیں جو عام نیکیوں کا اصل منبع اور جس سے انسان کا ہر مجاہدہ نفس حقیقتا رضائے الہی کے لئے ہوتا ہے۔ اگر ایمان باللہ نہیں تو ایک آدھ نیکی جو انسان کرتا ہے وہ خالص نہیں بلکہ کسی نہ کسی خود غرضی سے ہوتی ہے اور انسان حقیقی تقوی سے محروم رہتا ہے بلکہ ارتکاب ظلم اور گناہ میں بے باک ہو جاتا ہے۔ مثلاً یہ ابے یہی نیک عمل یعنی سقایتہ الحاج ) روح ایمان مفقود ہونے کی وجہ سے کسب دنیا کا ذریعہ بنا لیا گیا تھا۔ سورۃ البلد میں قساوت قلبی کا ذکر کر کے نیک اعمال کی تلقین کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ۔ (البلد : (۱۸) { پھر وہ اُن میں سے ہو جائے جو ایمان لے آئے اور صبر پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کرتے ہیں اور رحم پر قائم رہتے ہوئے ایک دوسرے کو رحم کی نصیحت کرتے ہیں۔} اس ارشاد باری تعالیٰ میں ایمان باللہ کی تا باللہ کی تاکید کی گئی ہے۔ فقہاء نے ان روایتوں سے یا یہ اخذ کیا ہے کہ مذکورہ بالا اجازت حضرت عباس سے مخصوص تھی ۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحه (۶۲) امام بخاری نے عنوانِ باب کو مقید نہیں کیا۔ بلکہ اسے مطلق رکھا ہے۔ منی کی راتوں سے مراد گیارہویں، بارہویں اور تیرھویں ذوالج کی راتیں ہیں۔ چونکہ ایام تشریق منی میں گزارنے پڑتے ہیں اور وہاں قیام ضروری ہے۔ اس لئے حضرت عباس نے بیت اللہ میں جانے کی اجازت طلب کی۔ اس لئے اجازت کا تعلق قیام سے ہے نہ کہ پانی پلانے کی خدمت سے۔ امام شافعی نے یہ اجازت متولی سقایہ کے لئے قرار دی ہے۔ لَوْ لَا أَنْ تُغْلَبُوا : اس سے مراد یہ ہے کہ میرے پانی نکالنے کی اتباع ساری امت کرے گی اور تمہیں پھر اس نیکی کا موقع نہیں ملے گا۔ یہ خدمت بلا أجرت ادا کی جاتی تھی۔