صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 311
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۱۱ ٢٥ - كتاب الحج الْمُطَّلِبِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَسُوْلَ اللهِ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: حضرت عباس بن صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَبِيْتَ بِمَكَّةَ عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پانی لَيَالِيَ مِنَى مِنْ أَجْلِ سِقَايَتِهِ فَأَذِنَ لَهُ۔ پلانے کی غرض سے بجائے منیٰ مکہ میں رات ٹھہر نے کی اجازت چاہی۔ آپ نے ان کو اجازت دی۔ اطرافه ١٧٤٣، 1744 ، 1745۔ ١٦٣٥: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا ۱۶۳۵: الحق ( بن شاہین) نے ہم سے بیان کیا، خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عِكْرِمَةَ ( کہا:) خالد نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے خالد حذاء عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ سے، خالد حذاء نے انے عکرمہ سے ، عکرمہ ۔ سے، عکرمہ نے حضرت رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ إِلَى السِّقَايَةِ فَاسْتَسْقَى فَقَالَ الْعَبَّاسُ صلی اللہ علیہ وسلم پانی کی سبیل پر آئے اور آپ نے پانی مانگا۔ حضرت عباس نے کہا: فضل ! اپنی ماں کے يَا فَضْلُ اذْهَبْ إِلَى أُمِّكَ فَأْتِ رَسُوْلَ پاس جاؤ اور ان سے رسول اللہ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَرَابِ لیے شربت لے آؤ۔ آپ نے فرمایا: مجھے پانی پلاؤ۔ مِنْ عِنْدِهَا فَقَالَ اسْقِنِي قَالَ يَا رَسُولَ حضرت عباس نے کہا: یا رسول اللہ ! وہ اس میں اپنے اللَّهِ إِنَّهُمْ يَجْعَلُوْنَ أَيْدِيَهُمْ فِيْهِ قَالَ ہاتھ ڈالتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: مجھے اسی سے پلا اسْقِنِي فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ أَتَى زَمْزَمَ وَهُمْ دو۔ چنانچہ آپ نے اس سے پانی پیا۔ پھر زمزم پر يَسْقُوْنَ وَيَعْمَلُوْنَ فِيْهَا فَقَالَ اعْمَلُوا آئے اور لوگ پانی پلا رہے تھے اور اس میں سے پانی فَإِنَّكُمْ عَلَى عَمَلٍ صَالِحٍ ثُمَّ قَالَ لَوْلا کھینچ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا: (اپنا کام کئے أَنْ تُغْلَبُوا لَنَزَلْتُ حَتَّى أَضَعَ الْحَبْلَ جاؤ۔ کیونکہ تم نیک کام میں ہو۔ پھر آپ نے فرمایا: اگر مجھے یہ خیال نہ ہو کہ تمہیں تکلیف ہوگی تو میں بھی عَلَى هَذِهِ يَعْنِي عَائِقَهُ وَأَشَارَ إِلَى اُترتا اور رہی اس پر رکھتا۔ یعنی اپنے کندھے پر اور عَائِقِهِ۔ سبب آپ نے اپنے کندھے کی طرف اشارہ کیا۔ سے تشریح : سِقَايَةُ الحاج: پانی کی قلت کے حامیوں کوپانی پلانا قدیم کا ثواب سمجھ جاتا تھا۔بیت اللہ سے مخصوص چند خدمتیں تھیں جنہیں متولی خاندان نے باہمی مشورہ سے آپس میں تقسیم کر لیا تھا۔ ان : رلیا تھا۔ ان میں سے