صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 310
صحيح البخاری جلد ۳ ٣١٠ ٢٥-كتاب الحج أَشْتَكِيْ فَقَالَ طُوفِي مِنْ وَّرَاءِ النَّاسِ سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں تو آپ نے فرمایا: وَأَنْتِ رَاكِبَةٌ فَطُفْتُ وَرَسُوْلُ اللهِ سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف کر لو۔چنانچہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي إِلَى میں نے طواف کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جَنْبِ الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ بِالطُّوْر بیت اللہ کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے اور آپ وَالطُّوْرِ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ تلاوت فرما وَكِتَابٍ مَّسْطُوْرٍ۔اطرافه: ٤٦٤ ، ١٦١٩، ١٦٢٦، ٤٨٥٣۔رہے تھے۔تشریح: نمبر ۱۶۳۲ میں بیماری وغیرہ کا ذکر نہیں۔انہیں روایتوں کے پیش نظر کتاب الصلوۃ میں باب ۷۸ کا عنوان اِدْخَالُ الْبَعِيرِ فِي الْمَسْجِدِ لِلعِلةِ قائم کیا گیا ہے۔ابوداؤد نے حضرت ابن عباس سے جو روایت نقل کی ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں: أَنَّ رَسُولَ اللهِ ﷺ قَدِمَ مَكَّةَ وَهُوَ يَشْتَكِيْ فَطَافَ عَلَى رَاحِلَتِهِ۔(ابوداؤد، کتاب المناسک، باب الطواف الواجب) یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے۔آپ بیمار تھے تو آپ نے اپنی سواری پر سوار ہو کر طواف کیا۔اور امام مسلم نے حضرت جابڑ کی جو روایت نقل کی ہے اس میں یہ الفاظ ہیں: طَافَ النَّبِيُّ الله فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ لِيَرَاهُ النَّاسُ وَلِيُشْرِفَ وَلِيَسْأَلُوهُ۔(مسلم، کتاب الحج، باب جواز الطواف علی بعیر وغیرہ) یعنی نبی ﷺ نے حجتہ الوداع میں اپنی سواری پر بیت اللہ اور صفا ومروہ کا طواف کیا تا کہ لوگ آپ کو دیکھ لیں اور مشاہدہ کر لیں اور تا کہ وہ آپ سے سوال پوچھ سکیں۔یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں وجہیں پائی جاتی ہوں۔(فتح الباری جزء ۳۰ صفحہ ۶۱۹ ) ایک شخص جو دور دراز کا سفر طے کر کے گیا ہو اور اگر وہ بیمار ہو جائے تو شریعت اسلام نے سہولت دی ہے اور اسے حج کے ثواب سے محروم نہیں رکھا۔وہ سواری پر طواف کر سکتا ہے۔بَاب ٧٥: سِقَايَةُ الْحَاجَ حاجیوں کو پانی پلانا الْمَرِيضُ يَطُوفُ رَاكِبًا: معنونه مسئله روایت نمبر ۱۶۳۳ اسے بآسانی مستنبط ہوتا ہے مگر روایت ١٦٣٤ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي :۱۶۳۴: عبد اللہ بن محمد ) بن ابی اسود نے ہم سے الْأَسْوَدِ حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بیان کیا، (کہا: ( ابو ضمرہ نے ہم سے بیان کیا ، ( کہا : ) اللَّهِ عَنْ نَّافِعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ الله عبید اللہ بن عمری ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے نافع عَنْهُمَا قَالَ اسْتَأْذَنَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ سے، نافع نے ( حضرت عبد اللہ ) بن عمر رضی اللہ عنہما