صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 309
صحيح البخاري - جلد۳ ۳۰۹ ٢٥- كتاب الحج امام بخاری ، امام مالک کے مذہب کی تائید کرتے ہیں اور انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم کی روایت اپنی شروط کے مطابق نہیں پائی۔جو فقہا ء طواف کو بطور نماز سمجھتے ہیں۔انہوں نے اسے نماز پر قیاس کیا ہے۔مگر احناف کے نزدیک چونکہ طواف کو نماز مجاز کہا گیا ہے۔اس لئے نماز کے سارے احکام طہارت وغیرہ طواف پر اطلاق نہیں پاسکتے۔أنَّ النَّبي الا الله لَمْ يَدْخُلُ بَيْتَهُ إِلَّا صَلَّاهُمَا: روایت نمبر ۱۶۳۱،۱۶۳۰ ایک غلط فہمی کے ازالہ کے لیے لائی گئی ہے جو حضرت عبداللہ بن زبیر کو ہوئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دورکعتیں پڑھنا خاص وجہ سے تھا۔اس کی وضاحت کے لیے دیکھئے روایت نمبر ۵۹۰۔باب ٧٤: الْمَرِيضُ يَطُوفُ رَاكِبًا بیمار سوار ہوکر طواف کرے ١٦٣٢ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ ۱۶۳۲: الحق ( بن شاہین ) واسطی نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَاءِ عَنْ کیا ، ) کہا : ( خالد (طحان) نے ہمیں بتایا۔انہوں عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ الله نے خالد حذاء سے، خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ عَلَى بَعِيْرٍ آپ ایک اونٹ پر سوار تھے۔جب آپ حجر اسود کے كُلَّمَا أَتَى عَلَى الرُّكْنِ أَشَارَ إِلَيْهِ سامنے آتے تو آپ اس کی طرف ایک چیز سے جو بِشَيْءٍ فِي يَدِهِ وَكَبَّرَ اطرافه: ١٦٠٧، ١٦١٢، ١٦١٣، ٥٢٩٣۔آپ کے ہاتھ میں تھی ؛ اشارہ کرتے اور اللہ اکبر کہتے۔١٦٣٣: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ۱۶۳۳: عبداللہ بن مسلمہ قعنبی) نے ہم سے مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ بیان کیا، کہا : ) مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ بن عبد الرحمان بن نوفل سے، انہوں نے عروہ سے، زَيْنَبَ ابْنَةِ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عروہ نے حضرت زینب بنت ام سلمہ سے، حضرت اللهُ عَنْهَا قَالَتْ شَكَوْتُ إِلَى زینب نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي کی کہ وہ کہتی تھیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رَضِيَ