صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 308 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 308

صحيح البخاری جلد۳ ٢٥ - كتاب الحج ١٦٣١: قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَرَأَيْتُ :۱۶۳۱ عبد العزیز نے کہا: اور میں نے حضرت عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ عبداللہ بن زبیر کو عصر کی نماز کے بعد دورکعت پڑھتے الْعَصْرِ وَيُخْبِرُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ دیکھا اور وہ کہتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عَنْهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ نے ان سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھرلے میں جب بھی آتے تو آپ یہ دور کعتیں ضرور وَسَلَّمَ لَمْ يَدْخُلْ بَيْتَهُ إِلَّا صَلَّاهُمَا۔اطرافه ۵۹۰، ۵۹۱، ۵۹۲، ۵۹۳ تشریح پڑھتے۔اَلطَّوَافُ بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ : چونکہ طواف کے بعد دوگانہ پڑھنا سنت ہے اور طلوع آفتاب کے وقت نماز ممنوع اور عصر کے بعد تا مغرب مکروہ۔اس لئے ان اوقات میں طواف سے متعلق فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔حضرت عمرؓ اور حضرت ابو سعید خدری کے نزدیک صبح اور عصر کے بعد طواف کیا جا سکتا ہے مگر طلوع اور غروب آفتاب کے وقت نہیں۔یہی مذہب امام مالک کا ہے۔سعید بن جبیر اور مجاہد کے نزدیک صبح اور عصر کے بعد طواف مکروہ ہے۔(بداية المجتهد، كتاب الحج، القول في الطواف، في شروطه، وقت جوازه) سعید بن جبیر تابعی حضرت عبداللہ بن سائب مخذومی کے آزاد کردہ غلام تھے اور مکہ مکرمہ کے فقہاء میں شمار کئے جاتے ہیں۔عالم تفسیر قرآن اور اعلیٰ درجہ کے قاری تھے۔۱۰۰ھ میں فوت ہوئے۔امام شافعی تمام اوقات میں طواف کرنا جائز سمجھتے ہیں۔انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم کی جس روایت سے استدلال کیا ہے وہ سفیان بن عیینہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ إِنْ وُلِيْتُمُ هَذَا الْأَمْرَ فَلَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ أَوْ صَلَّى أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْل أَوْ نَهَارٍ، سنن الدارمی، کتاب المناسک، باب الطواف في غير وقت الصلاة) یعنی بنی عبد مناف ( اور بنی عبد المطلب ! ) اگر تمہیں اس حکومت کا کوئی منصب سپرد کیا جائے تو تم کسی کو مت روکنا جو ( بیت اللہ کا طواف کرے یا نماز جب بھی چاہے پڑھے رات کو یا دن کو۔یہ حدیث اصحاب سنن اور ترمذی وغیرہ نے بھی سیج قرار دی ہے ہے (فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۶۱۷) خلاصہ یہ کہ سب متفق ہیں کہ طلوع و غروب آفتاب کے وقت طواف کرنا جائز نہیں۔البتہ طلوع آفتاب کے بعد اور مغرب سے قبل طواف کے بارے میں اختلاف ہے۔و ورود بداية المجتهد، كتاب الحج، القول فى الطواف، فى شروطه وقت جوازه ا بَيْنَهُ" کی بجائے عمدۃ القاری میں بیتھا“ کا لفظ ہے۔(عمدۃ القاری جزء و صفہ ۲۷۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔(ترمذی، کتاب الحج، باب ما جاء فى الصلاة بعد العصر وبعد الصبح لمن يطوف) (نسائي کتاب مناسك الحج، باب إباحة الطواف فى كل الأوقات (ابو داؤد، کتاب المناسک، باب الطواف بعد العصر) (ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها، باب ما جاء في الرخصة في الصلاة بمكة في كل وقت) (مسند احمد بن قبل جز ۴ صفحه ۸۱)