صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 308
صحيح البخاری جلد ۳ ٣٠٨ ٢٥ - كتاب الحج ١٦٣١: قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَرَأَيْتُ ۱۶۳۱: عبدالعزیز نے کہا: اور میں نے حضرت عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ عبد الله بن زبیر کو عصر کی نماز کے بعد دو رکعت پڑھتے الْعَصْرِ وَيُخْبِرُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ دیکھا اور وہ کہتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا عَنْهَا حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ نے ان سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھرے میں جب بھی آتے تو آپ یہ دور کعتیں ضرور وَسَلَّمَ لَمْ يَدْخُلْ بَيْتَهُ إِلَّا صَلَّاهُمَا ۔ اطرافه: 590، 591، 593، 593۔ پڑھتے ۔ تشريح : الطَّوَافُ بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ : چونکہ طواف کے بعد دوا نہ پڑھنا پڑھنا سنت ہے اور طلوع آفتاب کے وقت نماز ممنوع اور عصر کے بعد تا مغرب مکروہ۔ اس لئے ان اوقات میں طواف سے متعلق فقہاء کے درمیان اختلاف ہوا ہے۔ حضرت عمرؓ اور حضرت ابو سعید خدری کے نزدیک صبح اور عصر کے بعد طواف کیا جا سکتا ہے مگر طلوع اور غروب آفتاب کے وقت نہیں۔ یہی مذہب امام مالک کا ہے۔ سعید بن جبیر اور مجاہد کے نزدیک صبح اور عصر کے بعد طواف مکروہ ہے۔ (بداية المجتهد، کتاب الحج، القول في الطواف، في شروطه، وقت جوازه) سعید بن جبیر تابعی حضرت عبداللہ بن سائب مخزومی کے آزاد کردہ غلام تھے اور مکہ مکرمہ کے فقہاء میں شمار کئے جاتے ہیں۔ عالم تفسیر قرآن اور اعلیٰ درجہ کے قاری تھے۔ ۱۰۰ ھ میں فوت ہوئے ۔ امام شافعی تمام اوقات میں طواف کرنا جائز سمجھتے ہیں۔ انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم کی جس روایت سے استدلال کیا ہے وہ سفیان بن عیینہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ إِنْ وُلِيْتُمْ هَذَا الْأَمْرَ فَلَا تَمْنَعُوا أَحَدًا طَافَ أَوْ صَلَّى أَيَّ سَاعَةٍ شَاءَ مِنْ لَيْلٍ أَوْ نَهَارٍ ۔ (سنن الدارمي، كتاب المناسک، باب الطواف في غير وقت الصلاة) یعنی بنی عبد مناف اور بنی عبد المطلب ! ) اگر تمہیں اس حکومت کا کوئی منصب سپرد کیا جائے تو تم کسی کو مت روکنا جو ( بیت اللہ کا ) طواف کرے یا نماز جب بھی چاہے پڑھے رات کو یا دن کو ۔ یہ حدیث اصحاب سنن اور ترمذی وغیرہ نے بھی صحیح قرار دی ہے ہے فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۶۱۷ ) خلاصہ یہ کہ سب متفق ہیں کہ طلوع و غروب آفتاب کے وقت طواف کرنا جائز نہیں۔ البتہ طلوع آفتاب کے بعد اور مغرب سے قبل طواف کے بارے میں اختلاف ہے۔ (بداية المجتهد، كتاب الحج، القول في الطواف في شروطه، وقت جوازه) ل بيته" کی بجائے عمدۃ القاری میں بَيْتَهَا “ کا لفظ ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۹ صفحہ ۲۷۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔ (ترمذی، کتاب الحج، باب ما جاء فى الصلاة بعد العصر وبعد الصبح لمن يطوف) (نسائی، کتاب مناسك الحج، باب إباحة الطواف فى كل الأوقات) (ابو داؤد، کتاب المناسک، باب الطواف بعد العصر) (ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها ، باب ما جاء في الرخصة في الصلاة بمكة في كل وقت) (مسند احمد بن حنبل جزء ۴۰ صفحه (۸)