صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 306 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 306

صحيح البخاری جلد۳ ٢٥- كتاب الحج النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔وہ کہتے تھے: نبی علی بِالْبَيْتِ سَبْعًا وَصَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ (مکہ میں ) آئے۔آپ نے بیت اللہ کا سات بار رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّفَا وَقَدْ قَالَ طواف کیا اور مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز الله تَعَالَى: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي پڑھی۔پھر آپ صفا کی طرف نکلے اور اللہ تعالیٰ نے رَسُولِ اللهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الأحزاب: ۲۲) فرمایا: رسول اللہ ہی تمہارے لئے عمدہ نمونہ ہیں۔اطرافه ۳۹٥، ١٦۲۳، ١٦٤٥، ١٦٤٧، ١٧٩٣۔تشريح : مَنْ صَلَّى رَكْعَتَي الطَّوَافِ خَلْفَ الْمَقَامِ : حضرت جائی سے امام سلم نے نقل کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعت نماز ادا کی اور پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلَّى (البقرة : ۱۳۶) اور ابراہیم کے مقام میں سے نماز کی جگہ پکڑو۔اس سے بعض فقہاء یہ سمجھتے ہیں کہ گو یا مقام ابراہیم سے مراد وہ جگہ ہے جس کے پیچھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی اور وہاں نماز پڑھنا فرض ہے۔اس باب کے ضمن میں جس روایت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ نمبر ۱۶۲۴ میں گزر چکی ہے۔اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھنا صرف سنت نبویہ ہے واجب یا فرض نہیں اور یہی وجہ ہے کہ عنوانِ باب لفظ من سے قائم کر کے اس کا جواب حذف کر دیا ہے۔سابقہ باب ( نمبر اے ) اور اس باب ( نمبر ۷۲ ) کے دو مسئلے جواز کی صورت رکھتے ہیں۔بَاب ۷۳ : الطَّوَافُ بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ صبح اور عصر کی نماز کے بعد طواف کرنا وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما طواف کی دورکعت اس يُصَلِّي رَكْعَتَي الطَّوَافِ مَا لَمْ تَطْلُعِ وقت تک نہ پڑھتے جب تک کہ سورج نہ نکلتا۔الشَّمْسُ وَطَافَ عُمَرُ بَعْدَ الصُّبْحِ اور حضرت عمر نے صبح کی نماز کے بعد طواف کیا۔پھر فَرَكِبَ حَتَّى صَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ بِذِي آپ سوار ہوئے اور یہ دو رکعتیں ذی طوئی میں طُوًى۔پڑھیں۔١٦٢٨ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ :۱۶۲۸ حسن بن عمر بصری نے ہم سے بیان کیا، الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيْدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ ) کہا :) يزید بن زُریع نے ہمیں بتایا۔انہوں نے