صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 16 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 16

صحيح البخاری جلد ۳ ۱۶ ٢٤ - كتاب الزكاة مختار فی التصرف ہے۔انسان کے اس طبعی امتیاز ہی پر نیک و بد اعمال اور ثواب و عقاب کا دارو مدار ہے۔انفرادی ملکیت اور آزادی تصرف و عمل کا یہ حق اسلام تمام افراد بشر کے لئے تسلیم کرتا ہے اور اس تعلیم میں وہ شیوعیت ( کیمونزم ) وغیرہ فلسفی نظریات فکر سے اختلاف رکھتا ہے جو افراد کو اس طبیعی حق سے بذریعہ جبر و اکراہ محروم کرتے ہیں۔اسلام کی تعلیم حد اعتدال پر واقع ہے۔ایک طرف وہ کمزور طبقہ کا طبعی حق محفوظ رکھتا ہے اور افراد کو اُٹھنے، پینے اور کارآمد وجود بننے کے مواقع بذریعہ قانون بہم پہنچاتا ہے اور دوسری طرف بذریعہ قانون ہی اُن کا فطرتی حق خودارادیت اور اختیار تصرف محفوظ رکھتا ہے اور مسلمہ قانون کے تحت جو سب کے لئے یکساں ہے۔جہاں جبر و اکراہ کی ضرورت ہو وہاں اس سے کام لینے کی اجازت دیتا ہے۔اس تعلق میں تفصیلی بحث کے لئے ملاحظہ ہو اسلام کا اقتصادی نظام مصنفہ حضرت خلیفہ مسیح الثانی صفح ۲۲ ۳۷۔بَابِ ٢ : الْبَيْعَةُ عَلَى إِيْتَاءِ الزَّكَاةِ زکوۃ دینے کی بیعت ط فَإِنْ تَابُوا وَاَقَامُوا الصَّلوةَ ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ) اگر وہ تو بہ کریں اور نماز وَاتَوُا الزَّكوةَ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ سنوار کر پڑھیں اور زکوۃ دیں تو وہ تمہارے دین (التوبۃ: ۱۱) میں بھائی ہیں۔١٤٠١: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ قَالَ ۱۴۰۱: ( محمد بن عبداللہ ) بن نمیر نے ہم سے بیان حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ عَنْ قَيْسٍ کیا، کہا: میرے باپ نے مجھ سے بیان کیا ، ( کہا : ) قَالَ قَالَ جَرِيْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بَايَعْتُ اسماعیل بن ابی خالد ) نے ہمیں بتایا کہ قیس ( بن حازم ) النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى إِقَامِ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حضرت جریر بن الصَّلَاةِ وَإِيْتَاءِ الزَّكَاةِ وَالنُّصْحَ لِكُلِّ عبداللہ نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت نماز سنوار کر پڑھنے، زکوۃ دینے اور ہر ایک مسلمان مُسْلِمٍ۔کی خیر خواہی کرنے پر کی۔اطرافه ٥٧، ٥٢٤، ،٢١٥٧، ۲۷۱٤ ۷۲۰۲۷۱ تشریح الْبَيْعَةُ عَلَى إِيْتَاءِ الزَّكَاةِ : سابقہ باب کے مضمون کی مزید تائید میں یہ باب قائم کیا گیا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طرح نماز پڑھنے کی بیعت لی ، اسی طرح زکوۃ ادا کرنے کی بھی۔اور یہ عہد لینا اس کے وجوب پر دلالت کرتا ہے اور یہ معاہدہ پورا کرنا ضروری ہے۔اس کا توڑنا مستوجب سزا ہے؛ دنیا