صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 304
صحيح البخاری جلد۳ ۳۰۴ ٢٥- كتاب الحج تشریح : مَنْ لَّمْ يَقْرُبِ الْكَعْبَةَ۔بَعْدَ الطَّوَافِ الْأَوَّلِ: طواف اوّل سے مراد طواف قدوم ہے۔تمتع میں دو طواف ہیں۔ایک عمرہ کا طواف جس کے بعد احرام کھول دیا جاتا ہے اور دوسرا حج کا۔لیکن قران میں طواف کے بارے میں اختلاف ہے۔امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالی قارین کے لئے ایک طواف اور ایک سعی کافی سمجھتے ہیں۔یہی مذہب حضرت ابن عمرؓ اور حضرت جابر کا ہے۔جس کی تائید حضرت عائشہ کی روایت نمبر ۱۶۳۸ بھی کرتی ہے اور حضرت ابن عباس کی محولہ بالا روایت بھی اسی مذہب کی تائید میں نقل کی گئی ہے۔امام ابو حنیفہ، ثوری، اوزاعی اور ابن ابی لیلی رحمہم اللہ کے نزدیک قارن کو دو دفعہ طواف کرنا چاہیے۔کیونکہ عمرہ اور حج دو الگ الگ ابی عبادتیں ہیں جن میں ہر ایک کے لئے الگ الگ طواف اور سعی ہے۔(بداية المجتهد، كتاب الحج، القول في الطواف، في أعداده وأحكامه) اس ضمن میں باب ۶۳ کی تشریح بھی ملاحظہ ہو۔بَاب ۷۱ : مَنْ صَلَّى رَكْعَتَي الطَّوَافِ خَارِجًا مِّنَ الْمَسْجِدِ جس نے مسجد سے باہر طواف کی دورکعت نماز پڑھی وَصَلَّى عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَارِجًا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حرم کے باہر نماز مِّنَ الْحَرَم پڑھی۔١٦٢٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ :۱۶۲۶ عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہم سے يُوْسُفَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ مُّحَمَّدِ بْن بیان کیا، کہا : ( مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے محمد عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ زَيْنَبَ بن عبد الرحمن سے، محمد نے عروہ سے،عروہ نے زینب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا شَكَوْتُ ( بنت البی سلمہ ) سے، زینب نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔(وہ کہتی تھیں : ) میں نے إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیماری کی شکایت کی۔وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو امام بخاری نے کہا: ) اور محمد بن حرب نے مجھ سے مَرْوَانَ يَحْيَى بْنُ أَبِي زَكَرِيَّاءَ بیان کیا۔ابو مروان يحيی بن ابی ذکر یا غسانی نے ہمیں الْغَسَّانِيُّ عَنْ هِشَامٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أُمّ بتایا۔انہوں نے ہشام سے، ہشام نے عروہ سے، سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ عروہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت ام سلمہ