صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 303
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۰۳ ٢٥ - كتاب الحج تُجْزِئُهُ الْمَكْتُوبَةُ: ان رکعتوں سے متعلق ایک اور بھی اختلاف ہے۔ وہ یہ کہ آیا نماز فریضہ ان سنتوں کا قائمقام ہو سکتی ہے یا نہیں؟ عنوان باب میں اس اختلاف کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ زہری کا فتوئی وہی ہے جو جمہور کا یعنی السُّنَّةُ افْضَلُ ۔ اسماعیل بن امیہ کا قول ابن ابی شیبہ نے مختصر نقل کیا ہے ۔ (مصنف ابن ابي شيبة، كتاب الحج، باب في الاقران بين الأسباع من رخص فيه، روایت نمبر ۱۴۸۰۳، جز ۳۶ صفحه ۳۴۷) نافع کا قول مسند عبد الرزاق میں منقول ہے کہ حضرت ابن عمر دو طواف اکٹھے کرنے ناپسند کرتے تھے۔ (مصنف عبد الرزاق، کتاب المناسک، باب قرن الطواف، روایت نمبر ۹۰۱۲ ، جز ء ۵ صفحه ۲۴) روایت نمبر ۱۶۲۳ میں حضرت ابن عمر سے جو سوال کئے جانے کا ذکر ہے وہ قرآن سے متعلق ہے۔ اس سے استدلال یہ کیا گیا ہے کہ جو بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں کی، وہ نہیں کرنی چاہیے۔ ( فتح الباری جزء ۳ صفحہ ۶۱۳ ) مقام ادب کا تقاضا یہی ہے کہ عبادت میں جو حدود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کی ہیں ان سے تجاوز نہ کیا جائے۔ بَاب ۷۰ : مَنْ لَّمْ يَقْرُبِ الْكَعْبَةَ وَلَمْ يَطُفْ حَتَّى يَخْرُجَ إِلَى عَرَفَةَ وَيَرْجِعَ بَعْدَ الطَّوَافِ الْأَوَّلِ جو شخص طواف اوّل کے بعد کعبہ کے قریب نہ جائے اور نہ طواف کرے یہاں تک کہ وہ عرفات کی طرف جائے اور وہاں سے لوٹ آئے ١٦٢٥ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي ۱۶۲۵ محمد بن ابی بکر نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) بَكْرٍ حَدَّثَنَا فُضَيْلٌ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ فضل نے ہم سے بیان کیا، (کہا: ) موسیٰ بن عقبہ عُقْبَةَ أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ نے ہمیں بتایا ، ( کہا: ) کریب نے مجھے بتایا۔ حضرت عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمَ النَّبِيُّ عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَطَافَ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں آئے ۔ آپ نے وَسَعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ ( سات بار ) طواف کیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی يَقْرُبِ الْكَعْبَةَ بَعْدَ طَوَافِهِ بِهَا حَتَّى کی اور اپنے طواف کے بعد کعبہ کے قریب نہیں گئے ۔ یہاں تک کہ آپ عرفات سے لوٹ آئے۔ رَجَعَ مِنْ عَرَفَةَ۔ اطرافه: ١٥٤٥، ١٧٣١،