صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 302 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 302

صحيح البخاری جلد۳ ٣٠٢ ٢٥-كتاب الحج ١٦٢٣: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۱۶۲۳: قتيه ( بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَأَلْنَا ابْنَ ) کہا : ( سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔انہوں عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَيَقَعُ الرَّجُلُ نے عمرو بن دینار ) سے روایت کی کہ (انہوں نے کہا : ) عَلَى امْرَأَتِهِ فِي الْعُمْرَةِ قَبْلَ أَنْ يَطُوْفَ ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: کیا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ قَدِمَ رَسُوْلُ آدمی عمرہ میں صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ سے پہلے اپنی بیوی سے مباشرت کر سکتا ہے؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ علی ) مکہ میں ) آئے۔آپ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا۔پھر آپ نے رَكْعَتَيْنِ وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا و مروہ وَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي کے درمیان طواف کیا۔پھر انہوں نے کہا: تمہارے رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الأحزاب : ۲۲) لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں عمدہ نمونہ ہے۔اطرافه ۳۹٥، ١٦۲۷، ١٦٤٥، ١٦٤٧، ۱۷۹۳۔١٦٢٤ : قَالَ وَسَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ :۱۲۲۴ عمرو بن دینار نے کہا: اور میں نے حضرت عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَقَالَ لَا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے يَقْرَبُ امْرَأَتَهُ حَتَّى يَطُوْفَ بَيْنَ الصَّفَا کہا: جب تک صفا ومروہ کے درمیان طواف نہ کرے، وَالْمَرْوَةِ۔اطرافه ٣٩٦، ١٦٤٦، ١٧٩٤۔تشریح: اپنی بیوی کے پاس نہ جائے۔صَلَّى النَّبِيُّ اللهُ لِسُبُوْعِهِ رَكْعَتَيْنِ : طواف کے بعد مناسک حج میں دورکعت نماز سنت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم کے پیچھے پڑھیں۔اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے۔طواف سات پھیروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ہر طواف پر دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں۔اگر کوئی شخص دوطواف کرتا ہے یعنی چودہ چکر کاٹتا ہے تو وہ چار رکعتیں نماز پڑھے گا۔جمہور کے نزدیک ہر طواف یعنی سات پھیرے مکمل کرنے پر دو دو رکعتیں الگ الگ پڑھے۔گو بعض متأخرین نے دو طواف ختم کرنے کے بعد چار رکعتیں پڑھنا بھی جائز قرار دیا ہے۔لیکن امام ابوحنیفہ نے اسے مکروہ گردانا ہے کہ سنت نبویہ کے خلاف ہے۔بداية المجتهد، كتاب الحج، القول فى الطواف البيت، فى صفته) (فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۶۱۳)