صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 302
صحيح البخاری جلد ۳ ۳۰۲ ٢٥ - كتاب الحج ١٦٢٣: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۱۶۲۳: قتیبہ (بن سعید ) نے ہم سے بیان کیا، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَأَلْنَا ابْنَ (کہا) سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَيَقَعُ الرَّجُلُ نے عمرو بن دینار ) سے روایت کی کہ (انہوں ۔ نے کہا: ) عَلَى امْرَأَتِهِ فِي الْعُمْرَةِ قَبْلَ أَنْ يَطُوْفَ ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ قَدِمَ رَسُوْلُ آدمی عمرہ میں صفا اور مروہ کے درمیان طواف کرنے سے پہلے اپنی بیوی سے مباشرت کر سکتا ہے؟ انہوں اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ سَبْعًا ثُمَّ صَلَّى خَلْفَ الْمَقَامِ نے کہا: رسول اللہ ﷺ ( مکہ میں ) آئے۔ آپ نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا۔ پھر آپ نے رَكْعَتَيْنِ وَطَافَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں اور صفا و مروہ وَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي کے درمیان طواف کیا۔ پھر انہوں نے کہا: تمہارے رَسُولِ اللَّهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ (الأحزاب: (۲۲) لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں عمدہ نمونہ ہے۔ اطرافه ٩٥، ١٦٢٧، ١٦٤٥، 1647، 1793۔ ١٦٢٤: قَالَ وَسَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ ۱۶۲۴ : عمرو بن دینار نے کہا: اور میں نے حضرت عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فَقَالَ لَا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے پوچھا تو انہوں نے يَقْرَبُ امْرَأَتَهُ حَتَّى يَطُوْفَ بَيْنَ الصَّفَا کہا: جب تک صفا و مروہ کے درمیان طواف نہ کرے، وَالْمَرْوَةِ۔ اطرافه ٣٩٦، 1646، 1794۔ صلى الله الله اپنی بیوی کے پاس نہ جائے ۔ تشريح : صَلَّى النَّبِيُّ سُبُعِهِ وَ عِهِ رَكْعَتَيْنِ : طواف کے بعد مناسک حج میں دو رکعت نماز سنت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیم کے پیچھے پڑھیں۔ اس پر تمام ائمہ کا اتفاق ہے۔ طواف سات پھیروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر طواف پر دو رکعتیں پڑھی جاتی ہیں۔ اگر کوئی شخص دو طواف کرتا ہے یعنی چودہ چکر کاٹتا ہے تو وہ چار رکعتیں نماز پڑھے گا۔ جمہور کے نزدیک ہر طواف یعنی سات پھیرے مکمل کرنے پر دو دو رکعتیں الگ الگ پڑھے۔ گو بعض متأخرین نے دو طواف ختم کرنے کے بعد چار رکعتیں پڑھنا بھی جائز قرار دیا ہے۔ لیکن امام ابو حنیفہ نے اسے مکروہ گردانا ہے کہ سنت نبویہ کے خلاف ہے۔ (بداية المجتهد، كتاب الحج، القول في الطواف البيت، في صفته) ( فتح الباری جزء ۳ صفحه ۶۱۳ )