صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 301
صحيح البخاری جلد۳ ٢٥ - كتاب الحج يَرْجِعُ إِلَى حَيْثُ قُطِعَ عَلَيْهِ { فَيَبْنِي} جائے تو وہ جب سلام پھیرے۔اسی جگہ لوٹے جہاں وَيُذْكَرُ نَحْوُهُ عَن ابْن عُمَرَ وَعَبْدِ سے طواف چھوڑا تھا۔(اور (وہیں سے ) طواف شروع الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ کرے اور حضرت ابن عمر اور حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہم سے ایسا ہی منقول ہے۔تشریح: إِذَا وَقَفَ فِى الطَّوَافِ: ایسای عبدالرزاق نے نقل کیا ہے کہ حضرت معاویہ کے عہد خلافت میں جب عمرو بن سعید امیر مکہ تھے تو حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر نے حج کیا۔وہ ابھی طواف ہی کر رہے تھے کہ عمر و نماز فریضہ کے لئے کھڑے ہوئے تو حضرت عبد الرحمن نے ان سے کہا کہ ٹھہریں مجھے طواف کا طاق پھیرا پورا کرنے دیں۔چنانچہ وہ تین پھیرے کر کے باجماعت نماز میں شریک ہوئے اور نماز سے فارغ ہونے پر باقی چار پھیرے پورے کئے۔(مصنف عبد الرزاق، كتاب المناسک، باب قطعت الصلاة في سبع، روایت نمبر ۹۸۱۶ جزء ۵ صفحه ۵۰۱) حضرت ابن عمرؓ سے متعلق بھی سعید بن منصور نے جمیل بن زید کی روایت نقل کی ہے کہ وہ طواف کر رہے تھے کہ اتنے میں نماز فریضہ کے لئے تکبیرا قامت ہوئی اور وہ طواف چھوڑ کر نماز میں شریک ہوئے اور پھر باقی پھیرے کئے۔(فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۶۱۱) بَاب ٦٩ : صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسُبُوْعِهِ رَكْعَتَيْنِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سات پھیروں کی دورکعتیں پڑھیں وَقَالَ نَافِعٌ كَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ الله اور نافع نے کہا: ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا عَنْهُمَا يُصَلِّي لِكُلِّ سُبُوْعِ رَكْعَتَيْنِ ہر سات پھیروں کا دوگانہ ( دو رکعتیں) پڑھا کرتے وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ قُلْتُ لِلزُّهْرِي تھے اور اسماعیل بن امیہ کہتے تھے میں نے زہری سے إِنَّ عَطَاءً يَقُوْلُ تُجْزِتُهُ الْمَكْتُوْبَةُ مِنْ کہا کہ عطاء ( بن ابی رباح) کہتے ہیں: طواف کی دو رَكْعَتَي الطَّوَافِ فَقَالَ السُّنَّةُ أَفْضَلُ لَمْ رکعتوں کی جگہ فرض نمازیں اس کے لئے کافی ہیں۔يَطْفِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زُہری نے کہا: سنت افضل ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم سُبُوْعًا قَطُّ إِلَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ۔نے جب بھی سات پھیرے کئے تو دو رکعتیں پڑھیں۔لفظ بني فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے۔(فتح الباری جزء ۳۰ حاشیہ صفحہ ۱۱) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔