صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 298 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 298

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۹۸ ٢٥ - كتاب الحج نماز ہی ہے۔ اس میں گفتگو کم کریں ۔ حضرت ابن عباس کی اسی روایت کے پیش نظر یہ باب قائم کیا گیا ہے۔ طاؤس بڑے پایہ کے عالم با عمل فقیہہ اور محدث ہیں ۔ مکہ مکرمہ میں فوت ہوئے۔ سن وفات ۱۰۶ ھ ہے۔ زہری اور ان کے سوا بہت سے لوگوں نے ان سے روایتیں اخذ کی ہیں۔ (تهذيب التهذيب، من اسمه طاؤس، طاؤس بن كيسان) امام بخاری نے روایت نمبر ۱۶۲۰ اکو ان کی مذکورہ بالا مشہور روایت ( نمبر (۱۶۲) پر مقدم کیا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بحالت طواف بات کی جو ایک نصیحت تھی ۔ اس سے معلوم ہوا ہوا کہ کہ طواف میں عند الضرورت بات کی جاسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امام موصوف نے عنوان باب کو مصدر یہ رکھ کر مسئلہ کو کسی معین فتوی سے مقید نہیں کیا۔ صلى الله مَرَّ ۔۔۔ بِإِنْسَانٍ رَبَطَ يَدَهُ إِلَى اِنْسَانِ : دو شخص جو ایک دوسرے سے بندھے ہوئے طواف کر رہے تھے، انہوں نے نذر مانی تھی کہ وہ دونوں اسی طرح ایک دوسرے سے بندھے ہی بیت اللہ میں جا کر طواف کریں گے۔ آنحضرت ﷺ رت علی نے ایسی نذر کو شیطانی فعل قرار دیا ہے۔ امام احمد بن حنبل اور علامہ فاکہی نے یہ واقعہ مفصل بیان کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا: مَا بَالُ الْقِرَانِ یعنی اس طرح جوڑنے کی کیا وجہ ہے؟ ان کا جواب سن کر آپ نے فرمایا: لَيْسَ هَذَا نَدْرًا ۔۔۔۔ إِنَّمَا النَّذُرُ مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ۔ یہ نذر نہیں ؛ نذر تو وہ عمل ہے جس میں رضاء الہی مطلوب : لوب ہو۔ (مسند احمد بن حنبل جزء ۲ صفحہ ۱۸۳) طبرانی کی روایت میں ہے: إِنَّ هَذَا مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ۔ یعنی یہ شیطانی عمل ہے۔ (فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۱۰۹) (عمدۃ القاری جزء ۹ صفہ ۲۶۴) مشرکین عرب میں طواف کعبہ سے متعلق اسی قسم کی نذریں اور منتیں رائج تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کی اصلاح فرمائی ۔ بَاب ٦٦ : إِذَا رَأَى سَيْرًا أَوْ شَيْئًا يُكْرَهُ فِي الطَّوَافِ قَطَعَهُ جب طواف میں تسمہ یا مگر وہ چیز دیکھے تو ا اسے کاٹ دے ١٦٢١ : حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ ۱۶۲۱: ابو عاصم ( نبیل ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے جُرَيْجٍ عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَحْوَلِ عَنْ ابن جریج سے، ابن جریج نے سلیمان احول سے، طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ سلیمان نے طاؤس سے، طاؤس نے حضرت ابن عباس عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رَأَى رَجُلًا يَطُوْفُ بِالْكَعْبَةِ بِزِمَامٍ أَوْ ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ڈوری یا کسی اور چیز سے باندھے غَيْرِهِ فَقَطَعَهُ۔ اطرافه ١٦٢٠، ٦٧٠٢، 6703۔ کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔ آپ نے وہ کاٹ دیا۔ تشريح : إِذَا رَأَى سَيْرًا أَوْ شَيْئًا يُكْرَهُ فِي الطَّوافِ : عنوان باب سے یا تصور ہے کہ طواف یہ بتانا میں ناپسندیدہ امر کے ازالہ کی اجازت ہے مگر نماز میں یہ اجازت نہیں۔ یہ روایت بھی بسند طاؤس حضرت سَيْرًا : مَا قُدَّ مِنْ الْأَدِيمِ طُولًا ، الشَّرَاكَ۔ (لسان العرب-سیر یعنی چمڑے کا لمبا تسمہ۔