صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 299 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 299

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۹۹ ٢٥ - كتاب الحج ابن عباس ہی سے مروی ہے۔ غرض ان دونوں ابواب سے یہ ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ طواف کے متعلق حضرت ابن عباس کی روایت جو اصحاب السنن نے نقل کی ہے ، مستند نہیں ۔ یعنی الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ۔ بَاب ٦٧ : لَا يَطُوْفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ وَلَا يَحُبُّ مُشْرِكٌ کوئی برہنہ بیت اللہ کا طواف نہ کرے، نہ مشرک حج کو آئے ١٦٢٢: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ۱۶۲۲: یحی بن بکیر نے ہم سے بیان کیا، ( کہا:) حَدَّثَنَا اللَّيْثُ قَالَ يُونُسُ قَالَ ابْنُ ليث بن سعد ) نے ہم سے بیان کیا۔ یونس نے کہا شِهَابٍ حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ که ابن شہاب نے کہا: حمید بن عبدالرحمن نے مجھ الرَّحْمَنِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سے بیان کیا کہ حضرت ابوہریرہ نے انہیں بتایا: بَكْرِ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَعَثَهُ فِي حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے دسویں تاریخ الْحَجَّةِ الَّتِي أَمَّرَهُ عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ ذوالحجہ کو انہیں چند لوگوں سمیت حج کے لئے بھیجا جو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ حَجَّةِ حجة الوداع سے پہلے تھا جس میں رسول اللہ ﷺ الْوَدَاعِ يَوْمَ النَّحْرِ فِي رَهْطٍ يُؤَذِّنُ فِي نے حضرت ابوبکر کو امیر مقرر کیا تھا کہ وہ لوگوں میں النَّاسِ أَلَا لَا يَحُجُّ بَعْدَ الْعَامِ مُشْرِكٌ منادی کر دیں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ وَلَا يَطُوْفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ۔ کرے اور نہ کوئی برہنہ بیت اللہ کا طواف کرے۔ اطرافه: ۳٦٩ ، 3۱۷۷ ، 4363 ، 4655، ٤٦٥٦، ٤٦٥٧۔ ۔ تشریح ت ۔ لَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ عُرْيَانٌ : بانگی جیسےنماز میں منوع ہے؛ طواف میں بھی ہے۔ لوگوں کے امنے برہنگی اسلام نے نہایت نا پسند کی ہے اور اس سے روکا ہے۔ احناف نے صحت یا عدم صحت طواف کے لیے ستر کو بطور ضروری شرط ہونے یا نہ ہونے کا سوال اُٹھا کر یہ فتوی دیا ہے کہ اگر کوئی برہنہ بیت اللہ کا طواف کرے تو اس کا کا طواف تو ہو جائے جائے گا گا لیکن لیکن اسے اسے تو قربانی بطور رفدیہ فدیہ دینی دینی چاہیے۔ (فتح الباری باری ؟ جزء ا ۳۰ صفحه صفحه ۶۱۰) ۶۱۰) امام امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کا فتویٰ ان کے خلاف ہے۔ چنا چنانچہ انہوں نے محولہ بالا روایت کی بنا پر برہنہ طواف کو قطعی طور پر نا جائز قرار دے کر ستر کو صحتِ طواف کے لئے ضروری شرط قرار دیا ہے۔ اسی اختلاف کے پیش نظر امام بخاری نے کا عنوان بالجزم قائم کیا ہے ۔ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ ۔ (الاعراف:۳۱) ارشاد باری تعالیٰ اپنے سیاق و سباق کے اعتبار سے اس بارے میں واضح ہے کہ برہنگی ناپسندیدہ اور زینت کے خلاف ہے۔ بوقت غسل بھی اس میں باب