صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 297
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۹۷ بَابِ ٦٥ : الْكَلَامُ فِي الطَّوَافِ طواف میں باتیں کرنا ٢٥-كتاب الحج ١٦٢٠ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ۱۶۲۰: ابراہیم بن موسیٰ نے ہم سے بیان کیا کہ ہشام حَدَّثَنَا هِشَامٌ أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ (صنعانی) نے ہمیں بتایا کہ ابن جریج نے ان سے قَالَ أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ الْأَحْوَلُ أَنَّ بيان کيا، (کہا: ) سلیمان ( بن ابی مسلم) احول نے طَاوُسًا أَخْبَرَهُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ مجھے بتایا کہ طاؤس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ نبی ﷺ جبکہ مَرَّ وَهُوَ يَطُوْفُ بِالْكَعْبَةِ بِإِنْسَانِ رَبَطَ آپ کعبہ کا طواف کر رہے تھے ؛ ایک آدمی کے پاس يَدَهُ إِلَى إِنْسَانٍ بِسَيْرٍ أَوْ بِخَيْطِ أَوْ سے گزرے کہ جس نے اپنا ہاتھ ایک دوسرے آدمی بِشَيْءٍ غَيْرِ ذَلِكَ فَقَطَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّی سے تمہ یا دھاگہ یاکسی اور چیز کے ذریعے باندھ رکھا اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثُمَّ قَالَ قُدْهُ تھا۔آپ نے اس کو اپنے ہاتھ سے کاٹ دیا۔پھر بیده اطرافه: ١٦٢١، ٦٧٠٢، ٦٧٠٣، تشریح: فرمایا: اسے اپنے ہاتھ سے پکڑ کر لے چلو۔اَلْكَلَامُ فِي الطَّوَافِ : بیت اللہ کا طواف مناسک حج میں سے ایک ضروری رکن ہے۔یہاں تک کہ بعض فقہاء کے نزدیک حضرت ابن عباس کی مشہور روایت کے مطابق کہ طواف ایک قسم کی نماز ہی ہے۔ب السنن نے نقل کی ہے اور ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں: الطَّوَافُ حَوْلَ الْبَيْتِ مِثْلُ الصَّلَاةِ إِلَّا أَنَّكُمْ تَتَكَلَّمُونَ فِيهِ فَمَنْ تَكَلَّمَ فِيْهِ فَلَا يَتَكَلَّمَنَّ إِلَّا بِخَيْرٍ۔* (فتح الباری جز ۳۰ صفحه ۶۰۹) یعنی بیت اللہ کا طواف مثل نماز کے ہے البتہ تم اس میں گفتگو کرتے ہو۔جو شخص اس کے دوران گفتگو کرے وہ سوائے بھلی بات کے اور کچھ نہ کہے۔ایک دوسری سند میں أَنَّ اللَّهَ أَحَلَّ فِيْهِ الْمَنْطِقَ کے الفاظ ہیں۔یعنی اللہ نے اس میں گفتگو کی اجازت دی ہے۔طاؤس کی ہی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: الطَّوَافُ بِالْبَيْتِ صَلَاةٌ فَاقِلُوا مِنَ الْكَلَام (نسائی، کتاب مناسك الحج، باب إباحة الكلام فی الطواف) یعنی طواف بیت اللہ بھی (ترمذی، کتاب الحج، باب ما جاء فى الكلام فى الطواف (دارمی، کتاب المناسک، باب الكلام في الطواف) (صحيح ابن حبان كتاب الحج، ذكر الإخبار عن إباحة الكلام للطائف حول البيت العتيق، روایت نمبر ۳۸۳۶، جزء ۹ صفحه ۱۴۳) (صحيح ابن خزيمة، كتاب المناسک، باب الرخصة في التكلم بالخير في الطواف ، روایت نمبر ۲۷۳۹، جز ۲ صفحه ۲۲۲)