صحیح بخاری (جلد سوم)

Page 296 of 743

صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 296

صحيح البخاری جلد ۳ ۲۹۶ ٢٥ - كتاب الحج صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي أَشْتَكِيْ صلى اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی کہ میں بیمار ہوں تو فَقَالَ طُوْفِي مِنْ وَرَاءِ النَّاسِ وَأَنْتِ آپ نے فرمایا: سوار ہو کر لوگوں کے پیچھے پیچھے طواف رَاكِبَةٌ فَطُفْتُ وَرَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله کرلو۔ میں نے (لوگوں کے پیچھے ) طواف کیا اور عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَئِذٍ يُصَلِّي إِلَى جَنْبِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیت اللہ کے پہلو الْبَيْتِ وَهُوَ يَقْرَأُ : وَالطُّورِ میں نماز ادا کر رہے تھے اور آپ سورۃ وَالطُّورِ وَكِتَبٍ مَسْطُورِ (الطور : ٢-٣) وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ “ تلاوت فرمارہے تھے۔ اطرافه: ٤٦٤ ، ١٦٢٦ ، 1633، 4853۔ : ما تشريح : طَوَافُ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَال مذکور با عنوان نام کے افراط وتفریط کے این صورت واضح بالا کی ہے۔ یعنی یہ کہ عورتیں مردوں کے پیچھے یا ایک طرف ہٹ کر بغیر اس کے کہ آپس میں ملیں جلیں بیت اللہ کا طواف کر سکتی ہیں۔ ( روایت نمبر ۱۶۱۹) پردہ کے بارے میں باب ۲۳ کی تشریح میں تفصیل گزرچکی ہے۔ عورتیں حج میں اوڑھنیاں استعمال کر سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ اگر چاہتیں تو رات کے وقت طواف کر لیتیں۔ روایت نمبر ۶۱۸ ۱ کو واو عاطفہ سے شروع کر کے اسے عنوانِ باب کا حصہ قرار دیا ہے تا اس بارے میں مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آجائیں۔ یہ بطور تعلیق کے اسی لئے رکھا ہے۔ ابو عاصم نبیل ضحاک بن مخلد امام بخاری کے استاد ہیں۔ مذکورہ بالا روایت انہوں نے اپنے استاد سے براہ راست نہیں بلکہ عمرو بن علی باہلی کے واسطہ سے اخذ کی ہے۔ محدثین و شارحین کو اس روایت کی تحقیق میں بڑی وقت ہوئی ہے لیکن عبد الملک بن عبدالعزیز بن جریج کی یہی روایت علامہ عبدالرزاق کی مسند اور علامہ فاکہی کی کتاب مکہ میں مختلف سند سے مروی ہے۔ (مصنف عبد الرزاق، کتاب المناسک، باب طواف الرجال والنساء معا، روایت نمبر ۹۰۱۸ ، جزء ۵ صفحه ۶۶) (أخبار مكة، ذكر أوّل من فرق بين الرجال والنساء في الطواف، روايت نمبر ۴۸۳ ، جزء اول صفحه (۲۵) ( فتح الباری جزء ۳۰ صفحه ۲۰۶ ) إِذْ مَنَعَ ابْنُ هِشَامِ النِّسَاءَ : ابن ہشام جن کی متابعت کا ذکر روایت ۱۹۸۱ میں کیا گیا ہے ابراہیم ہیں؟ جو ہشام بن عبد الملک بن مروان کے ماموں تھے۔ جنہیں انہوں نے امیر مدینہ اور ان کے بھائی محمد کو امیر مکہ مقرر کیا تھا۔ ہشام نے اپنی خلافت میں ابراہیم کو حج کا نگران اعلیٰ مقرر کیا اور انہوں نے عورتوں کو مردوں کے ساتھ حج کرنے سے روکا تو عطاء بن ابی رباح نے انہیں ایسا کرنے سے منع کیا۔ محولہ بالا گفتگو ابن جریج اور عطاء کے درمیان ہوئی۔ عطاء نے اسی مسئلہ کو واضح کرنے کے لئے سب باتیں انہیں بتائیں ۔ جن سے ظاہر ہے کہ اس میں تشدد مناسب نہیں۔ عبدالعزیز بن جریج مکی تابعی ہیں۔ انہوں نے حضرت عائشہ اور حضرت ابن عباس سے روایتیں نقل کی ہیں۔ ان کے بیٹے عبدالملک فقیہہ تھے۔ ان کی روایتیں جو ان کے باپ سے منقول ہیں مستند ہیں۔