صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 15
صحيح البخاری جلد۳ ۱۵ ٢٤ - كتاب الزكاة اِلَّا بِحَقِّہ کے الفاظ سے حضرت ابوبکر کا استدلال عمیق اور وسیع نظر پر دلالت کرتا ہے۔فریضہ زکوۃ کی بنیاد اس ارشادِ باری تعالیٰ پرمبنی ہے : وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ (الذاریات: ۲۰) یعنی مالداروں کے مالوں میں محتاجوں اور محروم طبقہ کا حق ہے۔ذرائع پیداوار زمین اور جو کچھ کہ اس میں ہے، خدا تعالیٰ نے سب انسانوں کے لئے پیدا کئے ہیں۔فرماتا ہے: هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا (البقرة: ۳۰) یعنی وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے وہ سب کا سب پیدا کیا جو زمین میں ہے۔بعض انسان موافق حالات میں ان اشیاء سے فائدہ اُٹھا کر دولت پیدا کرتے ہیں۔جبکہ بعض نا موافق حالات کی وجہ سے محروم رہ جاتے ہیں۔سرمایہ دار طبقہ جن لوگوں کی محنت سے دولت کمانے میں کام لیتا ہے جو معاوضہ اُن کو دیتا ہے وہ کسی صحیح معیار پر نہیں ہوتا۔بلکہ مزدور کی کمزوری اس کو مجبور کرتی ہے کہ سرمایہ دار کی پیش کردہ شرا کا منظور کر کے محنت کرے اور اس کی محنت کا جو معاوضہ دیا جاتا ہے وہ پورا معاوضہ نہیں ہوتا۔اس کی محنت کے نتیجہ میں جو پیدا وار ہوتی ہے، اس میں مزدور کا حق واجب باقی رہ جاتا ہے، جو اُ سے کسی نہ کسی صورت میں ملنا چاہیے۔علاوہ ازیں معاشرے کا ایک طبقہ طبعی حالات کی وجہ سے کام کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔اس لئے یہ طبقہ مَا فِي الْأَرْضِ یعنی ذرائع پیداوار سے اپنی معاش کی صورت پیدا کرنے کے طبعی حق سے محروم رہ جاتا ہے۔دونوں قسم کے کمزور طبقوں کا طبعی حق دلانے اور اس طبعی کمزوری کی تلافی کی غرض سے فریضہ زکوۃ مالداروں پر بطور حق واجب عائد کیا گیا ہے اور جیسا کہ بتایا جا چکا ہے حضرت ابوبکر کے نزدیک زکوۃ کی عدم ادائیگی بغاوت ہے اور زکوۃ نہ دینے والا معاشرہ اسلامیہ کا فرد نہیں رہتا اور یہ کہ اس کی اس بغاوت پر اُس سے جنگ کرنا ضروری ہے۔بے شک اسلام نے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ (دین میں کوئی جبر نہیں} (البقرۃ: ۲۵۷) کے ارشاد سے دین کے بارے میں آزادی دی ہے۔مگر جو فرد بظاہر اسلام کا دعوے دار ہے اور اسلامی سوسائٹی میں شامل ہو کر اس کی پناہ میں ہے اور اس کی برکات سے مستفید اور اپنے اجتماعی حقوق سے پورے طور پر متمتع ہے۔مگر جو فرائض اور واجبات اسلام نے بحیثیت اسلامی معاشرہ کے فرد ہونے کی حیثیت سے اُس پر عائد کئے ہیں اُن کو وہ ادا نہیں کرتا؟ ایسا فرد اجتماعی حفاظت اور پناہ کا حق نہیں رکھتا۔دنیا میں کوئی حکومت بھی قانون شکن اور باغی افراد کو برداشت نہیں کرتی۔اسلامی نظام زکوۃ وصدقات کا تعلق دراصل معاشرہ سے ہے نہ کسی ایک فرد سے اور اس کے نتائج اور اثرات کا تعلق بھی معاشرہ ہی سے ہے فرد سے نہیں۔غرض اسلام میں فریضہ زکوۃ کی بنیاد اولا افراد بشر کے اس خداداد طبعی حق پر رکھی ہے جو ذرائع پیداوار میں اُن کو حاصل ہے۔ثانیا ملکیت کے نظریہ پر ؛ یعنی موافق حالات کے تحت جائز طور پر جوفر دذ رائع پیداوار پر قابض ہے وہ اُن کا مالک ہے۔اُن سے استفادہ کا اول حق مالک کو ہے۔فِی أَمْوَالِهِمْ فرما کر ان کا حق ملکیت وتصرف تسلیم کیا گیا ہے۔کیونکہ رضاء الہی اور ثواب کے حصول کا انحصار اس امر پر ہے کہ کوئی فرد اموال کا مالک ہوا اور اپنے مالوں میں تصرف کرنے پر قادر۔اگر اس کی یہ ملکیت اور قدرت تسلیم نہ کی جائے تو وہ کسی ثواب کا مستحق نہیں رہتا۔کیونکہ وہ اپنے اختیار سے زکوۃ وصدقات وغیرہ اعمال صالحہ بجانہیں لا سکتا۔انسان اور حیوان میں یہی ما بہ الامتیاز ہے کہ اول الذکر بالا رادہ