صحیح بخاری (جلد سوم) — Page 294
صحيح البخاری جلد ۳ ۲۹۴ ٢٥ - كتاب الحج یہاں مقصود ہے۔ یہ واقعہ باب ۷۸ میں ایک دوسری سند سے مفصل منقول ہے۔ (دیکھئے روایت نمبر (۱۶۴) حج میں طواف تین ہوتے ہیں۔ ایک طواف قدوم یعنی وہ طواف جو مکہ مکرمہ میں داخل ہوتے وقت کیا جاتا ہے۔ دوسرا طواف افاضہ جس کی نسبت قرآن مجید میں بایں الفاظ ارشاد ہے : ثُمَّ لْيَقْضُوا تَفَثَهُمْ وَلْيُوفُوا نُذُورَهُمْ وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ ) (الحج: ٣٠) { پھر چاہیے کہ وہ اپنی ( بدیوں کی میل کو دور کریں اور اپنی منتوں کو پورا کریں اور اس قدیم گھر کا طواف کریں ۔} نیز دیکھئے سورۂ بقرہ آیت ۲۰۰ مینی میں قربانی کر کے جمرۃ العقبہ پر رمی کرنے کے بعد بیت اللہ کا طواف کیا جاتا ہے اور یہ طواف حج کے ضروری ارکان میں سے ہے۔ تیسر ا طواف الوداع ہے جو مکہ مکرمہ سے لوٹتے وقت کیا جاتا ہے۔ ان طوافوں میں سے طواف الا فاضہ کے فرض ہونے پر ائمہ اور فقہاء کا اتفاق ہے۔ عروہ بن زبیر کے قول فَلَمَّا مَسَحُوا الرُّكْنَ حَلُّوا سے طواف الافاضہ مراد ہے جس سے پہلے طواف قدوم ، دورکعت نماز اور سعی ہیں۔ یہی مراد عروہ بن زبیر کی ہے۔ باب ۴۲ کی تشریح میں بتایا جا چکا ہے کہ بیت اللہ کا طواف ایک طریق عبادت تھا جو حضرت ابراہیم العلم نے جاری کیا اور آپ کے بعد اسرائیلی انبیاء سابقین نے بھی قائم رکھا۔ عیسائی اب تک کنیسہ قیامہ میں اپنے حج کے ایام میں طواف کرتے ہیں۔ زبور میں اسی اسی پروانہ وار طواف عشق و محبت کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔ ” میں تیرے مدیح کا طواف کروں گا تا کہ شکر گزاری کی آواز بلند کروں اور تیرے سب عجیب کاموں کو بیان کروں (زبور باب ۲۶ آیت ۷،۶) اسلام نے بھی اس طریق عبادت کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد میں قائم رکھا ہے۔ باب ٦٤ : طَوَافُ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ مردوں کے ساتھ عورتوں کا طواف کرنا وو ١٦١٨: وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيّ ۱۶۱۸: اور عمر و بن علی نے (مجھ سے) کہا: ابو عاصم حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ نے ہم سے بیان کیا کہ ابن جریج نے کہا: عطاء نے أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ إِذْ مَنَعَ ابْنُ هِشَامٍ مجھے بتایا ۔ جب ابن ہشام نے عورتوں کو مردوں کے النِّسَاءَ الطَّوَافَ مَعَ الرِّجَالِ قَالَ كَيْفَ ساتھ طواف کرنے سے منع کیا تو عطاء نے کہا: تم * يَمْنَعُهُنَّ وَقَدْ طَافَ نِسَاءُ النَّبِيِّ ان کو کیسے منع کرتے ہو بحالیکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الرِّجَالِ کی ازواج نے بھی مردوں کے ساتھ طواف کیا۔ قُلْتُ أَبَعْدَ الْحِجَابِ أَوْ قَبْلُ قَالَ إِيْ ( ابن جریج کہتے تھے: میں نے پوچھا: حجاب کے كَيْفَ يَمْنَعُهُنَّ» یعنی وہ ان کو کیسے منع کرتے ہیں؟ کی بجائے فتح الباری مطبوعہ بولاق میں لفظ ” كَيْفَ تَمْنَعُهُنَّ" ہے۔ ( فتح الباری جزء ۳۰ حاشیہ صفحہ ۱۰۵) مندرجہ بالا ترجمہ اس کے مطابق ہے۔